• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

شہدائے کربلا ؑ کے چہلم (اربعین) کے موقع پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے سید الشہدا امام حسین علیہ السلام اور شہدائے کربلا کے چہلم کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ محسن انسانیت‘ نواسہ رسول اکرم ﷺحضرت امام حسین علیہ السلام کی ذات اور آپ کے اہداف آفاقی ہیں۔ دنیا بھر میں مختلف مکاتب فکر کے نہ صرف کروڑوں مسلمان بلکہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد بھی انتہائی عقیدت سے امام عالی مقام اور ان کے باوفا اور جانثار ساتھیوں کی عظیم قربانی کی یاد مناتے ہیں۔ اگرچہ اس وقت انسانیت مختلف گروہوں میں بٹ چکی ہے لیکن محسن انسانیت سید الشہداء کی ذات ان تمام اختلافات اور طبقات کی تقسیم سے بالاتر تمام انسانوں کے لئے نمونہ عمل ہے۔ اس لئے گذشتہ چودہ صدیوں سے انسانیت آپ ؑ کی ذات سے وابستہ رہنے کو اپنے لئے شرف اور رہنمائی کا باعث قرار دے رہی ہے اور بلا تفریق مذہب و مسلک اور خطہ وملک آپؑ کی سیرت سے استفادہ کررہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کربلا کے بعد یہ اصول طے ہوگیا کہ رہتی دنیا تک آزادی کی جدوجہد ہو یا ظلم و ناانصافی کے خلاف قیام ، آمریت کے خلاف مزاحمت ہو یا امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے فریضے کی انجام دہی۔ ہر مرحلے میں سیدالشہداء ؑ کی ذات اور کردار کو رہنماء تسلیم کیا جائے گا اور اپنی جدوجہد کی بنیاد حسین ؑ کی سیرت اور اصولوں کو مدنظر رکھ کر رکھی جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ماضی میں جتنی تحریکوں، جدوجہد اور انقلابات نے فکر حسینی سے صحیح استفادہ کیا وہ دنیا پر غالب ہوئے اور اپنے اہداف میں کامیاب اور کامران ہوئے۔ عالم اسلام قائد حریت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی فکر انگیز تحریک سے آگاہی و آشنائی حاصل کرکے اتحاد و وحدت‘ مظلومین کی حمایت‘ یزیدی قوتوں سے نفرت کی ارتقائی منازل طے کرکے اپنی اخروی نجات کا سامان بھی فراہم کرسکتا ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ عزاداری سیدالشہدا ؑ کے پروگرام اور تقاریب فکر حسینی کی ترویج کا ذریعہ ہیں جبکہ پاکستان کے شہریوں کے آئینی و قانونی حقوق اور شہری وانسانی آزادیوں کا حصہ ہیں لہذا عزاداری کے پروگراموں کو روکنا یا ان میں رکاوٹ ڈالنا دراصل فکر حسینی کی ترویج کو روکنے کے مترادف ہے۔ اس فلسفے کے تحت ہم یہ بات کہنے میں حق بجانب ہیں کہ عزاداری کے انعقاد کے لئے ہمیں کسی قسم کی اجازت لینے کی ضرورت نہیں بلکہ ریاست کا فرض ہے کہ وہ اپنے شہریوں کی آزادیوں اور حقوق پر قدغن نہ لگائے اور ان کی آزادیوں کی حفاظت کرے اورعزاداری و ماتم داری کے جلوسوں اور مجالس کے انعقاد کے سلسلے میں اپنی انتظامی ذمہ داریاں دیانت داری سے ادا کرے۔
قائد ملت جعفریہ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ وحی الہی کے مطابق مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں اور یہ امت ایک امت ہے۔لہذا تمام مسالک کے جذبات کو ملحوظ خاطر رکھ کر اخوت‘ بھائی چارے‘ باہمی احترام‘ برداشت اور تحمل کا مظاہرہ کیا جائے۔عالم اسلام قائد حریت سید الشہداء حضرت امام حسین علیہ السلام کی فکر انگیز تحریک سے آگاہی و آشنائی حاصل کرکے اتحاد و وحدت‘ مظلومین کی حمایت‘ یزیدی قوتوں سے نفرت کی ارتقائی منازل طے کرکے اپنی اخروی نجات کا سامان بھی فراہم کرسکتا ہے ۔ امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ تاریخ انسانی کے کربلا جیسے معرکہ حق و باطل میں سرفرازو سر بلند حضرت سید الشہداء کی تعلیمات پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اپنے اتحاد و وحدت کے ذریعہ دشمنان اسلام کے سامنے سیسہ پلائی ہوئی دیوا ر بن جائیں اور سامراجی قوتوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملاکر اپنے زندہ و بیدار ہونے کا ثبوت دیں۔