تازه خبریں

صوبائی حکومت کے بعض اقدامات کوعادلانہ تقاضوں کے منافی سمجھتی ہے۔ (اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان)

صوبائی حکومت کے بعض اقدامات کوعادلانہ تقاضوں کے منافی سمجھتی ہے۔
(اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان)
اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کا اہم دو روزہ اجلاس صوبائی صدرعلامہ سید محمد عباس رضوی ممبر گلگت بلتستان کونسل کی زیر صدارت علاقائی کیمپ آفس سکردو میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں علامہ شیخ مرزا علی صوبائی جنرل سیکریڑی ، دیدار علی سینئر نائب صدر ، کیپٹن شفیع ممبر اسمبلی، کیپٹن سکندر ممبر اسمبلی و چیر مین پبلک اکاؤنٹس کمیٹی،علامہ فدا عبادی ڈویژنل صدر ، علامہ موسی رضوانی سمیت دیگر عہدیداروں نے شرکت کی۔ اجلاس میں اہم علاقائی امور کو زیر غور لایا گیا۔ اجلاس کے اختتام پر اعلامیہ جاری کیا گیا جو کہ درج ذیل ہیں۔
اسلامی تحریک پاکستان نے گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کی بھرپور نمائندگی کی ہے۔ اور ہر فورم پر گلگت بلتستان کو پانچواں صوبہ بنانے کا مطالبہ دہرایا ہے ۔ اور موجودہ جی بی قانون ساز اسمبلی میں آئینی صوبہ کی قرارداد بھی اسلامی تحریک کے ممبر نے پیش کی جو کثرت رائے سے منظور بھی ہوئی۔ اور آج بھی عالمی بدلتے حالات میں استحکام پاکستان کے لیے جی بی کو آئین میں شام کر کے مکمل آئینی صوبہ بنانے کی ضرورت پر زور دیتی ہے وفاقی حکومت سے توقع رکھتے ہیں کہ گلگت بلتستان کے محب وطن عوام کی خواہشات کے عین مطابق مکمل آئینی صوبہ بناتے ہوئے پانچواں صوبہ قراردے گلگت بلتستان جو اس اہم ترین موڑ پر کھڑا ہے اگر ایسے میں بھی عارضی اقدامات کیے گئے تو اس سے اچھا تاثر نہیں جائے گا۔
سی پیک منصوبہ کی وجہ سے ملک عزیز پاکستان عالمی سطح پر ابھر رہا ہے۔ اور سی پیک کے اجراء پر گلگت بلتستان کے عوام فخر محسوس کرتے ہیں کہ ہماری وفاداری رنگ لائی اور ملک کی اقتصادی حالت میں بے مثال ترقی جی بی کی مرہون منت ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سی پیک کے ثمرات پورے ملک میں نمایاں ہیں مگر سی پیک کے گیٹ وئے کو نظر انداز کردیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ سی پیک کے لیے مختص کی گئی رقم کا ایک فیصد بھی جی بی پر نہیں لگایا گیا۔ جس سے جی بی کے عوام میں تشویش پائی جاتی ہے حالیہ دنوں جی سی سی کے اجلاس میں جن منصوبوں کی منظوری دی گئی وہ سی پیک کے پیمانے کے منصوبے نہیں ہیں مطالبہ کیا جاتا ہے کہ جی سی سی کے اجلاس سے قبل قانون ساز اسمبلی کو اعتماد میں لیا جائے اور پورے گلگت بلتستان کو سی پیک کے ثمرات سے مستفید کیا جائے۔
اسلامی تحریک پاکستان عادلانہ حکومت اور نظام پر یقین رکھتی ہے اور صوبائی حکومت کے بعض اقدامات کو عادلانہ تقاضوں کے منافی سمجھتی ہے۔ اور سخت تشویش کا اظہار کرتی ہے خصوصا محکمہ تعلیم ، صحت اور پولیس بھر تیوں میں خلاف ضابطہ اور قانون بھرتیوں پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے اس عزم کو دہراتی ہے کہ میرٹ کو پاؤں تلے روندنے سے علاقے میں احساس محرومی بڑھ سکتی ہے اور جو کسی بھی عالمی اہمیت کے منصوبہ کی افادیت کو مشکوک کرنے کے ساتھ محکموں کے بے بسی ظاہر کرتی ہے جس کا فائدہ دہشت گرد گروہوں کا حاصل ہوگا جو ماضیط میں ٹارگٹ کلنگ اور مسافروں کو تنگ کرتے آئے ہیں ۔ قائمہ کمیٹی برائے صحت و تعلیم کے وضع کردہ فارمولوں کو یکسر نظر انداز کرنے سے اسمبلی کی وقعت بھی متاثر ہوگی جو اچھا پیغام نہیں ہے ۔