رپورٹ کے مطابق ایران کی مجلس شورائے اسلامی کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ علاء الدین بروجردی نے، برطانیہ کے سرکاری انکوائری کمیشن کی رپورٹ میں عراق میں مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کے دعوے کے جھوٹا ہونے اور برطانوی فوج کی عراق میں تعیناتی کا اقدام غلط ہونے کے اعتراف پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ شروع دن سے ہی سب پر واضح تھا کہ عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں ہیں-
بروجردی نے کہا کہ شروع سے ہی یہ معلوم تھا کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک نے عراق کے عظیم ذرائع تک دسترسی حاصل کرنے کے مقصد سے اس طرح کی سازش رچی تھی اور عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا مسئلہ محض ایک بہانہ تھا- مجلس شورائے اسلامی کی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کمیشن کے سربراہ نے کہا کہ عراق کی جنگ میں اس ملک کے عوام کے قتل عام اور جارحیتوں کے ذمہ دار امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک ہیں اور وہ رائے عامہ کے سامنے جواب دہ ہیں – انہوں نے کہا کہ حکومت عراق بین الاقوامی اداروں کے توسط سے اس بارے میں تحقیقات کراسکتی ہے-
واضح رہے کہ حال ہی میں برطانوی حکام نے عراق میں اپنی فوج تعینات کئےجانے اور عراق میں عام تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے موجود ہونے کے دعوے کے جھوٹا ہونے کا اعتراف کیا ہے- برطانیہ کے سرکاری انکوائری کمیشن کے سربراہ سر جان چلکوٹ نے کہا کہ صلح کے امکان کے باوجود حکومت برطانیہ نے سن دو ہزار تین میں عراق پر جارحیت میں شرکت کی جو انتہائی نامناسب اقدام ہے۔ انہوں نے عراق کے خلاف فوجی ایکشن کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ عرا ق میں وسیع تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا بہانہ بلا جواز تھا۔
…….