• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

جھنگ کی دونوں سیٹ پرہم نے کامیابی حاصل کی،اب انکوچوردروازہ سے لاکر تشیع کے حقوق پرڈاکا ڈالاجا رہا تھا،ہم نے پھرتشیع کے حقوق کی ضمانت دی

  جعفریہ پریس ۔ اسلام آباد میں آج 25  اپریل  سے شیعہ علماء کونسل پاکستان کی مرکزی جنرل کونسل کا تین روزہ اجلاس جامعہ امام الصادق کراچی کمپنی میں شروع ہوگیا ہے، اجلاس میں ملک بھر سے ایس یو سی کے صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی صدور و جنرل سیکرٹریز اور نمائندگان شریک ہیں- اس سے قبل بعد از نماز جمعہ  قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کی سربراہی میں  شیعہ علما کونسل پاکستان کی مرکزی کابینہ کا اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں تمام صوبائی صدور وجنرل سیکرٹریز، ناظم اعلیٰ جعفریہ یوتھ اورجعفریہ اسٹوڈنٹس کے صدرنے شرکت کی ۔ مرکزی کابینہ کے اجلاس کے اختتام پرمرکزی جنرل کونسل کے اجلاس کا قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی کے افتتاحی خطاب سے ہوا جو اس وقت جاری ہے۔ جنرل  کا یہ اجلاس  27 اپریل تک جاری ر ہے گا- اجلاس میں ملکی سیاسی صورتحال اور بلدیاتی انتخابات سمیت تنظیمی امور کا جائزہ لیا جائے گا-
جعفریہ پریس کے نمائندے کی رپورٹ کے مطابق قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی جب جلسہ گاہ میں پہنچے تو تمام تنظیمی کارکنان وعہدیدارن نے اپنے محبوب قائد کا گرمجوشی سے استقبال کیا-
مرکزی جنرل کونسل سے خطاب کرتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان نے  کہا کہ یہ اجلاس نہایت حساس اور نازک مرحلے پر ہو رہا ہے، بہت سارے چیلنجز کا سامنا ہے، جھنگ کی دونوں سیٹ پر ہم نے کامیابی حاصل کی، اب انکو چور دروازہ سے لیا جا رہا تھا، جھنگ میں انکو دوسری مرتبہ ذلت اور رسوائی کا سامنا کرنا پڑا، جھنگ میں تشیع کے حقوق پر ڈاکا ڈالنا تھا، ہم نے پھر تشیع کے حقوق کی ضمانت دی، آج پھر ہم سرخرو ہیں، راولپنڈی جلوس کا مسئلہ نہیں تھا یہ تشیع کا مسئلہ تھا، سانحہ راولپنڈی کے اسیر سب آزاد ہو چکے ہیں، حالت انتہائی گمبھیر ہے انکو سنوارنے کی کوشش ہورہی ہے، حالات انشاءاللہ سدھرینگے، تنظیم کے اندر باہمی رابطے وسعت نظری سے ہونے چاہیے، ایک دوسرے کے ساتھ صبر تحمل عاجزی انکساری کا اظھار کریں-