• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

موجودہ سیاسی صورت حال پرقائد ملت جعفریہ پاکستان کی تجاویزسامنےآگئیں

جعفریہ پریس – قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ روز اول سے مطالبہ رہا ہے کہ آئین و قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے‘ اگر عمل درآمد کیا جاتا تو آج اس طرح کی صورت حال درپیش نہ ہوتی‘ تمام ذمہ داران کو چاہیے کہ اب جو حقائق اصلاحات اور انقلاب کے حوالے سے پیش کئے جا رہے ہیں اس پر سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے‘ آئین و قانون کے تحت مفاہمت کی راہ اختیار کی جائے اگر توجہ نہ دی گئی تو ملک میں ایسی رسم چل پڑے گی جن سے آنے والے وقتوں میں چھٹکارا مشکل ہوجائے گا ۔
جعفریہ پریس کے نمائندے کے مطابق  ان خیالات کا اظہار انہوں نے اتوار کو اپنی رہائش گاہ پر مختلف علماء و سیاسی رہنماؤں کے وفود سے ملاقاتوں کے دوران کیا۔ حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ ہمارا روز اول سے مطالبہ رہا ہے کہ ملک کی تقدیر اسی طریقے سے صحیح معنوں میں تبدیل کی جا سکتی ہے کہ آئین و قانون پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ آج جو صورت حال درپیش ہے اس کی بنیادی وجہ بھی آئین و قانون سے روگردانی ہے۔ انہوں نے موجودہ صورت حال میں اپنی تجاویز دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت اصلاحات اور انقلاب ضروری ہیں اس سلسلے میں جو حقا ئق پیش کئے جا رہے ہیں سنجیدگی سے ان کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے لیکن مذاکرات اور مفاہمت کے ذریعے ہی بالاخر مسئلہ کا حل نکالا جاسکتا ہے جو آئین اور قانون کی روشنی میں ہو اور وہ ضروری تبدیلیاں عمل میں لائی جائیں جس سے نظام میں ہر قسم کے بگاڑ کا خاتمہ کرکے اصلاح ہوسکتی ہے جو انقلاب کا مظہر بن سکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موجودہ صورت حال میں اگر مذکورہ بالا تجاویز سے ہٹ کر کوئی راستہ اختیار کیا گیا تو جو ریت (رسم) پڑچکی ہے وہ مستقل طور پر ریاست کے گلے پڑجائے گی اور اس سے آنے والے وقتوں میں چھٹکارا ناممکن ہوگا اس ساری صورت حال کا بہتر اور اچھا اختتام ضروری ہے تاکہ ملک کو آئندہ اس قسم کی صورت حال اور ریتوں کا سامنا نہ کرنا پڑے اس لئے ضروری ہے کہ تمام ذمہ داران سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور آئین و قانون کے مطابق مفاہمت کاک راستہ اختیار کریں۔