قطری وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ کویت کے احترام اور علاقائی سلامتی کی خاطر ہم چار ملکوں کی طرف سے پیش کردہ مطالبات پرغور کر رہے ہیں، تاہم دوحہ ان مطالبات کو ’خلاف منطق‘ سمجھتا ہے۔ مطالبات پر جلد سرکاری موقف ظاہر کرنےکا اعلان بھی کر دیا گیا ہے۔گذشتہ روز سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر نے کویت کے ذریعے قطری حکومت تک اپنے مطالبات کی ایک فہرست پہنچائی تھی۔اس فہرست میں قطر سے 13 مطالبات پیش کیے گئے ہیں اور ان پر عمل درآمد کے لیے قطری حکومت کو 10 دن کی مہلت دی گئی ہے۔ مطالبات پر عمل درآمد کی صورت میں دوحہ اور دوسرے خلیجی وعرب ملکوں کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی ختم ہو جائے گی۔قطر سے کئے گئے مطالبات میں ایران سے تعلقات میں کمی اور دوحہ اور تہران کے عرب ممالک کے خلاف ابلاغی پروپیگنڈہ مہم کو ختم کرنا شامل ہے۔

وائٹ ہاوس کے پریس سیکرٹری شان سپائسر نے کہا ہے کہ قطر اور اس کے خلیجی ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تنازع ’ایک فیملی معاملہ‘ ہے۔ شان سپائسر کا کہنا تھا کہ ’اس معاملے میں جو چار ممالک ملوث ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ یہ ایک فیملی معاملہ ہے اور اسے انھیں خودحل کرنا چاہیے۔

اس تنازع میں قطر کے خلاف کارروائی کرنے والی تمام عرب ممالک امریکہ کے انتہائی قریب ہیں تاہم ابھی تک ان مطالبات کے حوالے سے امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹلرسن نے باضابطہ طور پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ‘

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here