مدینۃ العلم میں باب العلم نہ ملا اور آج باب العلم کے روضے کے اطراف میں لائبریری نہ ملی
تحریر:فرحت حسین
دوسروں کے بارے میں رائے قائم کرنے سے پہلے اس کے گھر جاکر اسی سے سوال کر لینا ضروری ہوتاہے کیوں گھر والے زیادہ بہتر جانتے ہوتے ہیںاسی موقف کو اپنایا جائے اور پھیلایا جائے ۔لہذا معلومات انسان کا بنیادی سرمایہ ہے جس کے ذریعہ انسان کی قیمت کا اندازہ ہوتا ہے ۔جتنا علم و معلومات آپ کی زیادہ ہوگئ اتنی ہی قیمت ہوگئ۔غلط معلومات لینا غلط ہے غلط معلومات نشر کرنااس سے بڑی غلطی ہے ۔چونکہ دنیا عروج و زوال کا گھر ہے جس میں آج آپ پر، عروج ہے تو کل زوال کی تہیہ کو بھی آپ دیکھ کر چلیں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ آج کسی کے بارے میں غلط معلومات دے رہیں کل آپ کے بارے کوئی غلط معلومات بھی دے سکتاہے
صحافت کی دنیا میں تو غلط خبر آفت ہے ہر چیز کی آفت ہوتی ہے اور صحافت کی آفت غلط خبر دینا ہے جس کو قرآن واضح طور منع فرماتا ہے اورتاریخ کی ستم ظریفی بھی ہے کہ تاریخ نے اپنے اندر حقائق کو چپھایا ہے چونکہ تاریخ کو لکھنے کا حکم دینے والے حکمران طبقہ رہا جس کو حکمران پسند کرتے وہ ہی مورخ کا قلم ، بند کرتا، جو ان کو پسند نہیں ہوتی اس کو تاریخ نے چھوڑ دیا، چاہے وہ علم وحکمت کا سمندر اور حیاو عفت کا سرچشمہ کیوں نہ ہو، اس کی تاریخ میں بہت بڑی مثالیں ملتیں ہیں ان میں ایک کو ذکر کرنے کی کوشش کرتا ہوں ۔مسجد کوفہ میں امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی شھادت کی خبر شام میں پہنچی تو لوگوں نے سوال کیا کہ علی مسجد میں کیا کرنے گئے تھے جبکہ علی کی نماز تو کبھی بھی قضا نہ ہوئی جنگ کا میدان ہو یا شب کی تاریکی بلکہ علی ابن طالب صبح کو خطاب کر کے فرماتے ہیں اے صبح گواہ رہنا آج تک میں نے تم کو طوع ہوتے ہوئے دیکھا جبکہ تو نے مجھے سوتے ہوئے نہیں دیکھا ۔
حوزہ علمیہ کا مطلب دنیا آج کل جدید طرز کی یونیورسٹی بلڈنگ سمجھتی ہے جو درست نہیں بلکہ حوزہ کا مطلب ہر جگہ درس و تدریس اور ہر دوسرے گھر میں کتابوں کے لیے باقاعدہ لائیبریری موجودہے اس کےلیے آپ نجف اشرف میں کسی بھی گلی میں چلے جائے اس کی فضا کو محسوس کرے گئے سوائے ان لوگوں کے جن کی محسوس کرنے کی حس کو دنیا کے مال نے چیھن لیا ہو ۔
میں نے ۲۵ دسمبر ۲۰۱۶ کو http://www.bbc.com/urdu/world-38425767 بی بی سی کی ویب سائٹ کو دیکھا توایک کالم نظروں سے گزرا کالم نگار ماہ پارہ صفدر نے لکھا جسکو پڑھ کر مجھے بڑا افسوس ہوا اور اس کے ساتھ معلوما ت کو غلط دینے کا دنیا میں کس حد تک رواج ہے اس کا احساس ہوا ہے ۔کہ ان لوگوں کی جوذمہ داری ہے وہ ادا نہ کر کے جو پیسے لیتے ہی شاید ان کے جائز بھی ہے یا نہیں ۔
میں نے نجف اشرف میں موجود روضہ امام علی کی ویب سائٹ کو دیکھا اس میں موجود مکتبات کی ایک فہرست موجود ہے ۔جس میںخطی و غیر خطی نسخے لاکھوں کا ذخیرہ موجود ہے اس کی تفصیلات اس لنک سے حاصل کیجاسکتی ہیں۔
http://www.imamali.net
http://www.haydarya.com/
مکتبۃ روضہ حیدریہ کے نام سے بہت بڑی لائبریری موجودہے جس کا ایک دروازہ حرم امیر المومنین علی ابن ابی طالب کی ضریح میں ہی کھلتاہے
اس کو ماہ پارہ صفدر نے کیوں نظر انداز کیاہے اس کی وجوہات دو ہوسکتیں ہیں ۔
پہلی وجہ عقل و بصیرت کی انکھیں بند تھیں جو کہ نجف اشرف کے دشمنوں نے کروائیںہیں
دوسری وجہ اس کو معلومات جمع کرنے کا طریقہ نہیں آتا جو کہ ناقابل قبول بات ہے
میرے کافی دوست ساقی کوثرکے در سے جام کوثر کے ذریعہ علمی پیاس بھجا رہیں ہیں ہر روز زائرین پاکستان سمینت دنیا بھر میں زیارت کا شرف حاصل کر رہے اس کو سعادت سمجتھے ہیں اس سے اندازہ ہوتاہے آج مجھے پتا چلا پیسہ انسان کو عقل سے اندھا کر دیتا ہے
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے ،لیلیٰ نظر آتا ہے
تعجب کا مقام اس سے زیادہ نہیں کہ کل جب حضور اکرم ﷺ اس دنیا موجود تھے تو لوگوں کو باب العلم نہ ملا آج اس باب علم پر علم کا ذخیرہ نہیں ملتا۔