اسلام آباد ۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان نے دہشت گردی کی حالیہ کارروائیوں اور قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پوری قوم غم اور دکھ کی اس گھڑی میں شہداء کے خاندانوں کے کرب میں برابر کی شریک ہے۔
ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے مرکزی رہنماؤں آصف لقمان قاضی، علامہ عارف حسین واحدی اور ثاقب اکبر نے مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی کے ان واقعات نے جہاں تمام پاکستانیوں کو غم میں مبتلا کیا ہے ، وہاں عوام کی جان و مال کے تحفظ میں حکومت کی ناکامی کو ایک بار پھر آشکار کیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ چاروں صوبوں میں دہشت گردوں کی کمر توڑنے کے دعوے میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ نیشنل ایکشن پلان کو منظور ہوئے دو سال سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن اس پر عملدرآمد تاحال جزوی اور غیر موثر ہے۔ نیشنل کاونٹر ٹیرارزم اتھارٹی کا وجود عملا نہ ہونے کے برابر ہے۔ وفاق اور صوبائی حکومتوں کے اداروں کے مابین معلومات کے بروقت تبادلے کا موثر نظام تاحال تشکیل نہیں دیا جا سکا۔ محض مبھم انداز میں وارننگ جاری کرنا نیکٹا کا ایک لا یعنی مشغلہ بن چکا ہے ۔
ملی یکجہتی کونسل پاکستان یہ واضح کرنا چاہتی ہے کہ دہشت گردی اور دھماکوں کا دین اسلام سے تعلق جوڑنا ایک گمراہ کن نظریہ ہے۔ ملک کے تمام جید علماء اور مذھبی جماعتیں دہشت گردی کی مذمت میں قوم کے شانہ بشانہ کھڑی ہیں اور کسی بھی بے گناہ انسان کے قتل کو حرام قرار دیتے ہیں۔
انہوں کا کہنا تھا کہ دھماکے کرنے والے اللہ اور رسول ؐ کے احکامات کی واضح نافرمانی کر رہے ہیں ۔ دہشت گردی کا اولین ہدف امت مسلمہ اور مسلمان ممالک ہیں اور یہ تمام کارروائیاں اسلام دشمن قوتوں کی مدد سے اور ان کے مفاد کے لیے کی جارہی ہیں۔ منظم دہشت گردی ریاستوں کے درمیان چپقلش کا نتیجہ ہے اور اس کے لیے مذہب کو مورد الزام ٹھہرانا درست نہیں۔ اپنے عقیدے کے مطابق مذھبی رسومات کی ادائیگی ہر شہری کا بنیادی حق ہے ۔ نیشنل ایکشن پلان کی آڑ میں مذھبی سرگرمیوں کو محدود کرنا مسئلہ کا حل نہیں ہے ۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کو دہشت گردوں کی حقیقی کمین گاہوں پر فوکس کرنا ہوگا۔ آئین پاکستان کی روسے حکومت کو خود درست خطوط پر دینی تعلیم کا اہتمام کرنا ہوگا اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر مبنی درست بیانیہ تشکیل دینا ہوگا۔ لاوڈ سپیکر پر پابندی ، درود و سلام اور میلاد کی محفلوں، جلوس ہائے عزا کے خلاف اقدامات اور خطبات جمعہ و مدارس کے خلاف کارروائیاں دہشت گردی کے اصل مراکز سے توجہ ہٹانے کا باعث ہیں۔ملی یکجہتی کونسل نے موجودہ حالات کے پیش نظر فیصلہ کیا ہےکہ صوبائی سطح پر پریس کانفرنس کے ذریعے اپنا موقف بیان کریں گے۔ سپریم کونسل کا اجلاس اسلام آباد میں طلب کر لیا گیا ہے۔ ملی یکجہتی کونسل کا ایک مرکزی وفد سیہون شریف کا دورہ کرے گا جبکہ ملی یکجہتی کونسل کے وفود پہلے ہی وہاں جا رہے ہیں۔ کونسل کے زیر اہتمام تین روزہ سوگ کا تیسرا روز ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف اور اتحاد امت کے لیے ایک بڑی عوامی کانفرنس اسلام آباد میں منعقد کی جائے گی جس کی حتمی تاریخ کا فیصلہ سپریم کونسل کے اجلاس میں کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس میں آصف لقمان قاضی رکن سپریم کونسل ، علامہ عارف حسین واحدی اسلامی تحریک پاکستان شہیدی نائب صدر ، ثاقب اکبر ڈپٹی سیکریٹری جنرل ، قاضی ظفر الحق کنوینئر علمی و تحقیقاتی کمیشن، ، مولانا عبد الجلیل نقشبندی ، پیر محمد سعید نقشبندی ، ڈاکٹر امتیاز تنظیم اسلامی ، عبد اللہ گل تحریک جوانان پاکستان ، علامہ اصغر عسکری مجلس وحدت مسلمین، کاشف چوہدری جماعت اسلامی پاکستان نیز کونسل میں شامل تنظیموں کے قائدین نے شرکت کی۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here