ہرہونے والے واقعہ میں ایک سامنے کا منظرہوتاہے اورایک اس کاپس منظر،پاکستان کی تاریخ شہید لیاقت علی خان کے قتل سے لے کرآج تک کے ہونے والے سینکڑوں واقعات کواپنے دامن میں لئے ہوئے ہے جن کاظاہری منظر تودنیا سمیت سب نے دیکھامگراس کے پس پردہ عوامل ،محرکات اور پس منظرسے قوم کو آگاہ نہیں کیاگیا اورنہ ہی قوم کواصل حقائق بتائے گئے۔
لگتاہے پاکستان کے آئین سے بالاترماورا ایک ایسا قانون بنایاگیاہے کہ جس میں طے ہے پاکستان کی سرزمین پرہونے والے واقعات کے حقائق کو منظرعام پر نہ لایاجائے اورجس نے اس قانون کی خلاف ورزی کی اس کی سزاموت ہے ، پاکستان کا یہ واحدقانون ہے کہ جس کی ہرآنے والاحکمراں پاسداری کرتے ہوئے نظرآتا ہے۔
دنیاکادستورہے جب حکومتیں بدلتی ہیں تواس کے ساتھ ملکی حالات اوراپنی اپنی پارٹی کے منشورکے مطابق آنے والی حکومت کی پالیسیاں بھی تبدیل ہوتی ہیں اور پاکستان میں بھی کم وبیش اس طرح ہوتانظر آتا ہے، مگر اس مذکورہ ماوراقانون کے مطابق ہونے والے واقعات وسانحات کی پالیسی میں کسی قسم کی تبدیلی نظر نہیں آتی،جس کے نتیجے میں اسلامی ملک پاکستان کی نہ صرف امنیت ،معیشت اور بین الاقوامی سطح پر اس کی ساکھ تباہ وبرباد ہوکر رہ گئی ہے بلکہ پورا ملک دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے اور دہشت گردوں کے رحم وکرم پر چل رہاہے، لیکن دہشت گردتو پھر دہشت گردہے معمولی سے مفادکی خاطرسینکڑوں جانوں کاضیاع کرگذرتاہے ،کوئی اسے روکنے اورٹوکنے والانہیں ہے،آئے دن کسی نہ کسی شہرمیں بہت بڑاحادثہ ہوجاتاہے جس سے روزانہ کئی گودیاں اجڑ رہی ہیں اورپورے ملک میں خانہ جنگی کا لاوا پک رہاہے جوکسی وقت بھی پھٹ سکتاہے، اوریہ بھی ناقابل انکارحقیقت ہے کہ اگر خدائے ناخواستہ یہ لاواپھٹاتو ہر خشک وترکو خاکستر کرجائے گا پھر نہ قوم رہے گی نہ ملک اورنہ ہی حکمراں۔
ملک کی موجودہ صورتحال میں یہ ہی کیفیت نظرآرہی ہے ،ہرطرف موت کے آثارڈگ مگا رہے ہیں ، ملکی ان کشیدہ حالات پرنظرکی جائے توتمام تر سیاسی مذہبی تنظیموں کے قائدین اور تجزیہ نگاروں نے صاف کہہ دیا ہے کہ ملک کی موجودہ صورتحال اورسانحہ راولپنڈی سمیت مختلف شہروں میں ہونے والے واقعات کے پیچھے بیرونی ہاتھ ہے ،مگر ان بیرونی ہاتھوں سمیت دہشت گردی میں ملوث ملک کے داخلی دشمن ٹولے کوبے نقاب کون کرے گا اوراصل حقائق کو منظرعام پر کون لائے گا؟یہ ایک ایساسوال ہے جس کے جواب کی تلاش میں لیاقت علی خان کے قتل سے لے کرحالیہ سانحات بالخصوص سانحہ پنڈی تک کے حقائق جاننے کے لئے پوری قوم بے تاب ہے، مگراس ماوراقانون کی خلاف ورزی کون کرسکتاہے جس کی سزاموت ہے۔
عدالتی کمیشن توبنایاگیاہے اورپہلے بھی کئی باربنائے جاچکے ہیں ،مگران کمیشنوں کی آج تک کوئی رپورٹ منظرعام پر نہ آسکی،اگرماضی پرنظر کی جائے تو ناامیدی ہی ناامیدی ہے،اس حالیہ کمیشن نے بھی اگربہت بڑا معرکہ سرکیا تواتناہی کرسکے گی کہ بال حکومتی میدان میں پھینک کر اپنا دامن خالی کر ے گی کہ حکمراں مصلحت سمجھیں تواس رپورٹ کو منظر عام پر لاسکتے ہیں اور حکمراں کبھی اسے منظرعام پرلانے میں مصلحت نہیں سمجھیں گے کیونکہ آئین سے بالا تر موجودماورا قانون کی خلاف ورزی ،سزا ئے موت ہے اورہمارے حکمرانوں کواقتدار سے زیادہ اپنی جان پیاری ہے۔
اب ہم خود ہی ذرا ان حقائق کے جاننے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اس طرح اصلی دشمن کو پہچان کر شاید آنے والے سانحات کا سد باب کیاجاسکے۔
جب ہم بین الاقوامی حالات پر نظر کرتے ہیں توجہاں ماضی قریب میں دنیابھرکے مختلف ممالک بالخصوص یورپ اورامریکی ممالک میں آزادی کی تحریکوں نے ہل چل مچادی وہاں تیونس سے شروع ہونے والی اسلامی بیداری کی تحریک نے نہ صرف تیونس بلکہ لیبیااورمصرسے بھی امریکی اورصہیونی نواز حکمرانوں کاقلع قمع کیاپھر اس نہ رکنے والی اسلامی بیداری تحریک نے یمن،سعودی عرب،کویت اوربحرین سمیت بہت سارے ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، ظاہر ہے ان تمام تحریکوں کا اصلی سبب اسلام میں موجودحریت اورآزادی کاپیغام ہی تھا جس سے الہام لیتے ہوئے انسانیت بیدارہونے لگی تھی۔
ان بین الاقوامی تحریکوں میں دلچسپ بات یہ بھی تھی کہ یہ سب کچھ ان ممالک میں ہورہاتھا جہاں پر امریکاسے بڑھ کرصہیونی مفادات کی وابستگی زیادہ تھی ، استعماری صہیونت نے لاحقہ خطرات کے پیش نظر مذہب اورفرقہ واریت کا مجرب حربہ استعمال کیااوران اسلامی تحریکوں جن میں بلاتفریق مذہب و مسلک تمام مسلمان شامل تھے، مذہب کی بنیادپر کچلنے کی بھرپورکوشش کی اوربے تحاشاسرمایہ خرچ کیا ،نیززرخریدمفتیوں کے ذریعے جمہوری خواہ عوام کے قتل عام کے فتاوادلوائے اور شام (سیریا) کے اندرچندمٹھی بھرتکفیری دہشت گردٹولے کواکساکرشام کی جمہوری حکومت’’ جوصہیونی ناجائزاسرائیلی حکومت کے خلاف اہم اسلامی مورچے کاکرداراداکررہی ہے‘‘کے خاتمے کے لئے کوشش کی ،مگرصہیونی لابی جب عوامی طاقت کی حامل شامی حکومت کوہٹانے میں ناکام رہی تو تکفیریوں کی مددکے لئے پوری دنیاسے دہشت گردکٹھے کئے گئے ،ان کی سپورٹ میں یورپ،امریکاسمیت صہیونیت کااسلحہ صرف ہوایہاں تک کہ انہیں کیمیکل ہتھیار اور موادبھی دیاگیا،شامی حکمرانوں کوبین الاقوامی نام نہاداداروں میں ڈرایااوردھمکایاگیاپھر بھی شامی عوام اورحکمراں ان دھمکیوں سے خوف زدہ نہ ہوئے اور اپنے عزم وارادے پر ثابت قدم رہے اورآج تک ان صہیونی لابی کامقابلہ کرتے چلے آرہے ہیں،شام میں چونکہ مقدس مقامات اور بالخصوص جناب سیدہ زینب کبریٰ بنت علی علیہم السلام کاروضہ اطہربھی ہے اس کے تحفظ اورانسانیت کے ناطے حزب اللہ اورایران نے اخلاقی مدد کی جسے مذہب کارنگ دیاگیا۔
اس تمام صورتحال کے پیش نظرآج شام میں دنیاکے سامنے صہیونیت اپنی شکست تسلیم کرنے پر مجبورہے اوراپنی اس ذلت آمیز شکست کاسبب شیعت کوہی سمجھتی ہے لہذاشیعت سے بدلہ لینے کابہترین موقعہ محرم اورصفرہی تھا، اس لئے صہیونیت نے محرم وصفرمیں مختلف ممالک کے اندر اپنی کاروائی کی پلان بنائی جن میں فرقہ وارانہ فسادات سمیت بم بلاسٹ بھی شامل تھا ،یہ وجہ تھی کہ گذشتہ سالوں کی بنسبت اس سال ایرن،لبنان اورعراق کی سیکورٹی انتظامات کچھ زیادہ ہی الرٹ کردئے گئے اور پاکستان میں محرم سے چندروزقبل قائدملت جعفریہ پاکستان حضرت آیۃاللہ علامہ سیدساجدعلی نقوی اعلان کرتے ہیں کہ اس سال نئے اندازمیں عزاداری آرہی ہے ،عزادار اس کے لئے اپنے آپ کو تیاررکھیں جبکہ لبنان میں بھی قائداستقامت سیدحسن نصراللہ نے اس سے ملتا جلتا بیان دیتے ہیں کہ بم بلاسٹ ہماری عزاداری کی راہ میں کبھی حائل نہیں ہوسکتے اور بنفس نفیس عزاداروں میں حاضر ہوکرخطاب بھی کیا۔
یہ تو تھی بین الاقوامی صورتحال اب ذراپاکستان کارخ کرتے ہیں ،استعمارہمیشہ لڑاؤحکومت کروکا فارمولہ استعمال کرتا رہاہے اورمسلمانوں کولڑانے کے لئے فرقہ واریت ہی بہترین ذریعہ ہے جس کے لئے پاکستان کی سرزمین انکے مطمع نظررہی ہے لہذاالیکشن ۲۰۱۳ میں ان کی بھرپورکوشش تھی کہ اس دفعہ تکفیریوں کو ایوانوں میں پہنچاکران کے ذریعے اپنے پلیداہداف حاصل کرسکیں مگرملت جعفریہ کی بابصیرت قیادت نے اپنی تمام تر توانئیاں صرف کرکے اس صہیونی آلہ کار تکفیری ٹولے کوبری طرح شکست سے دوچارکیا۔
ہمارے ملک میں استعماری صہیونیت کے لئے ’’یک نشد دو شد‘‘کے تحت دومقاصدتھے ایک پاکستان ۲۰۱۳کی الیکشن اوردوسراشام میں ذلت آمیز شکست کابد لہ، لہذااس کے لیے اپنے ان ہی آلہ کاروں کو مذہب کی بنیادپر اکسایااب خواہ وہ آلہ کارتکفیری گروہ سپاہ صحابہ کی شکل میں ہو ں یا لشکر جھنگوی ، طالبان والقاعدہ کی شکل میں ۔
پنڈی سانحے میں پوری قوم اور سیاسی مذہبی رہنماؤں کا موقف ایک ہے اورسب کی ایک ہی نظرہے کہ اسلامی مقدسات کا احترام کیاجائے، ہر مذہب اور مسلک والے کوحق حاصل ہے کہ آزادانہ طورپر اپنی مذہبی رسومات اداکرے، پھرمحسن انسانیت حضرت امام حسین علیہ السلام کی عزاداری پرتوکسی مسلمان کو اعتراض ہی نہیں ،فقط ایک مٹھی بھر تکفیری دہشت گردگروہ ہی ہے جوامام حسین (علیہ السلام) کی عزداری پر اعتراض کرکے فرقہ واریت کو ہوا دینا چاہتا ہے اوران کی اشتعال انگیز اقدامات کی وجہ سے سانحات رونما ہوئے اوراب بھی اپنی اشتعال انگیزی پرمصمم ہیں جبکہ طالبانی ٹولہ بھی ہراعتبارسے ان کی سپورٹ کرنے کے وعدے کر رہا ہے ۔
ہماراسلام ہو سنی شیعہ علماء پر جنہوں نے دشمن کی چال کو بھانپتے ہوئے امن کا پیغام دیا،محبت واخوت کاپیغام دیااورایک دوسرے کی مقدسات کے احترام کی تلقین کی، لیکن میں مطالبہ کروں گاتمام مسالک کے قائدین اوراپنے معزز علماء کرام سے کہ اب تو تکفیری ٹولے کی کارستانیاں آپ کے اورپوری قوم کے سامنے واضح وعیاں ہوچکیں کہ کس طرح وہ ملک وملت کے دشمن ہیں اورہروہ کام کرگذرتے ہیں جواستعماری صہیونیت کامطمع نظرہے تو پھر ضرورت اس امر کی ہے کہ ان سے تمام ترمذہبی اجتماعات اوردینی پلیٹ فارموں پربائیکاٹ کرکے اسلامی نظریاتی کونسل جیسے فورمزکے ذریعے ان کے بیانات اورلٹریچر پر پابندی لگوائی جائے اورکسی بھی ٹاک شوپران کے ساتھ گفتگونہ کی جائے،جس طرح کہ اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے بڑی جرات مندی کامظاہرہ کرتے ہوئے تکفیری گروہ کے سرغنے لدھیانوی کے ساتھ ٹاک شوپرگفتگوکرنے سے انکارکردیا، کیونکہ اس دہشت گرد تکفیری ٹولے کے پاس نہ کسی مسلک کی نمائندگی ہے اورنہ ہی ملکی مفادمیں کوئی مہذب پلیٹ فارم ،بلکہ اس نے تواپنی کارستانیوں سے واضح کردیاکہ یہ ٹولہ مفسدفی الارض اورمحارب ہے جن کے لئے اسلام و قرآن کا حکم واضح ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here