• ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی وقت کی ضرورت ھے۔علامہ عارف واحدی
  • اسلامی تحریک پاکستان کا صوبائی ا نتخابات میں بھرپور حصہ لینے کا اعلان
  • جامعہ جعفریہ جنڈ کے زیر اہتمام منعقدہ عظیم الشان نہج البلاغہ کانفرنـــــس
  • سانحہ پشاور مجرموں کی عدم گرفتاری حکومتوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے، ترجمان قائد ملت جعفریہ ہاکستان
  • سانحہ بسری کوہستان !عشرہ گزر گیا مگر قاتل پکڑے گئے نہ مظلومین کو انصاف ملا،
  • راہِ حسین(ع) پر چلنے کیلئے شہداء ملت جعفریہ نے ہمیں بے خوف بنا دیا ہے۔علامہ شبیر حسن میثمی
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان سندھ کے زیر اہتمام کل شہدائے سیہون کی برسی کا اجتماع ہوگا
  • شہدائے سیہون شریف کی برسی میں بھرپور شرکت کو یقینی بنائیں علامہ شبیر حسن میثمی
  • ثاقب اکبر کی وفات پر خانوادے سے اظہار تعزیت کرتے ہیں علامہ عارف حسین واحدی
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی ثاقب اکبر کے انتقال پر تعزیت

تازه خبریں

گلگت بلتستان موجودہ نگران کابینہ سیاسی پسند نا پسند بنیادوں پر بنائی گئی،علامہ عارف حسین واحدی

جعفریہ پریس – گلگت بلتستان کی نگران کابینہ پر عدم اعتماد، موجودہ نگران کابینہ سیاسی پسند نا پسند بنیادوں پر بنائی گئی۔ چھوٹے صوبے کیلئے 12رکنی کابینہ علاقہ کے مفاد میں نہیں اور نہ ہی اس کی قانون اجازت دیتا ہے۔ موجودہ نگران کابینہ گلگت بلتستان کی موجودگی میں آنے والے انتخابات کا اشفاف ہونا بھی سوالیہ نشان بن گیا؟ان خیالات کا اظہار مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے گلگت بلتسان شیعہ علماء کونسل کے صوبائی عہدیداروں کے اجلاس کے بعد میڈیا کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران کیا۔
مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے بتایا کہ قائد ملت جعفریہ پاکستان  حضرت آیت اللہ علامہ سید ساجدعلی نقوی نے گلگت بلتستان انتخابات کے پیش نظر 28جنوری کو مرکزی سیاسی سیل کا اہم اجلاس طلب کر لیا ہے۔ جس میں گلگت بلتستان میں بننے والی نگران کابینہ کا باریک بینی سے جائزہ لیتے ہوئے آئندہ انتخابات کے حوالے سے اہم فیصلہ کئے جائیں گے ۔اس لئے کہ کہ نگران کابینہ کسی بھی سیاسی پارٹی سے مشورہ کیے بغیر بنائی گئی ہے۔ جس سے یہ عیاں ہے کہ آئندہ آنے والے انتخابات شفاف نہیں ہونگے۔ نگران کابینہ غیر جانبدار افراد پر مشتمل ہونی چاہیئے ۔ اسطرح کے فیصلہ جات میں گلگت بلتستان کے مفاد اور عوام کی رائے کو نظر انداز کرنا خطہ کی مفاد میں نہیں ہے اس لئے کہ عوامی رائے کے برعکس پسند نا پسند پربنائی جانے والی کابینہ مزید مسائل پیدا کرئے گی ۔