• کوئٹہ میں ہونے والی دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • علامہ شبیر حسن میثمی کا علامہ سید علی حسین مدنی کے کتابخانہ کا دورہ
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس

تازه خبریں

یکساں نصاب تعلیم رائج کر کے اس طرح قانون سازی کی جائے کہ ہر پاکستانی شہری کو تعلیم کے یکساں مواقع میسرآسکیں ، امجد علی آرگنائزر جے ایس او پاکستان سندھ

 جعفریہ پریس – جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان سندھ کے آرگنائزر امجد علی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج کل تبدیلی اور انقلاب کی باتیں ہو رہی ہیں اور کچھ جماعتیں تو اس تبدیلی اور انقلاب کے لیے اپنے تن ،من اور دھن کی بازی لگانے کے لیے بھی بے تاب ہیں، روپے اور پیسے کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔لیکن ان تمام کاموں کے باوجود پاکستان میں تبدیلی اور ترقی کا دور دور تک کوئی نشان نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں حقیقی انقلاب اس دن آئے گا جب ہم تعلیم کی اہمیت سے آگاہ ہو جائیں ۔ہمارے ملک میں غریب اور امیر کے لیے نصاب تعلیم مختلف ہے اور اسکول بھی مختلف ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے ہر ایک کے لیے یکساں نصاب تعلیم رائج کر کے اس طرح قانون سازی کی جائے کہ ہر پاکستانی شہری کو تعلیم کے یکساں مواقع میسر آ سکیں۔
آج پاکستان میں تعلیم نظام کئی طبقات میں تقسیم ہو چکا ہے۔ امیر کے بچوں کے لیے الگ سکول ہیں تو متوسط طبقے کے لیے الگ سے چند اسکولوں کی چین بنی ہوئی ہے۔رہا غریب کابچہ تو اول تو وہ اسکول جاتا ہی نہیں اور اگر جاتا بھی ہے توسرکاری اسکولوں کو اس کے لیے مختص کیا ہوا ہے۔
اس کے لیے سب سے پہلے حکمرانوں سمیت ہر وہ شخص کہ جو سرکاری تنخواہ لے رہا ہے اس کے لیے ضروری قرار دیا جائے کہ وہ اپنے بچوں کو سرکاری اسکولوں میں پڑھائے گا۔ اس طرح نہ صرف سرکاری اسکولوں کا معیار بلند ہو گا بلکہ پرائیویٹ اسکولوں کی جو اس قدر بہتات ہو چکی ہے وہ بھی دم توڑ جائے گی ۔