دشمن کو ابھی ایک طمانچہ رسید کیا گیا ہے: رہبر انقلاب اسلامی
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے بدھ کے روز قم سے آئے ہزاروں افراد کے اجتماع سے خطاب کیا ۔ یہ خطاب نو جنوری انیس و چپھن میں شہر قم میں ہونے والے عوامی قیام کی سالگرہ کی آمد پر انجام پایا۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نےشجاعت، بصیرت اور راہ خدا میں اخلاص کو شہید جنرل قاسم سلیمانی کی ممتاز خصوصیات میں شمار کیا ہے۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اپنے اس خطاب میں شہید جنرل قاسم سلیمانی کی خصوصیات کا ذکر کیا اور فرمایا کہ ان کی ایک خصوصیت یہ تھی کہ وہ شجاع بھی تھے اور صاحب بصیرت و تدبیر بھی ۔
رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے فرمایا کہ بعض لوگوں میں شجاعت ہوتی ہے لیکن ان میں صحیح تدبیر اور سوجھ بوجھ کے ساتھ کام کرنے کی توانائی نہیں پائی جاتی۔آپ نے فرمایا کہ اسی طرح بعض لوگوں میں بصیرت اور سوجھ بوجھ ہوتی ہے لیکن ان کے اندر میدان عمل میں قدم رکھنے کی جرائت اور شجاعت نہیں ہوتی۔ لیکن شہید جنرل قاسم سلیمانی کے اندر بصیرت، سوجھ بوجھ اور تدبیر بھی پائی جاتی تھی اور اسکے ساتھ ساتھ خطرات میں کود پڑنے کی شجاعت بھی موجود تھی ۔
رہبر انقلاب اسلامی نے اخلاص کو شہید جنرل قاسم سلیمانی کی سب سے بڑی خصوصیت قرار دیا اور فرمایا کہ وہ اپنی سوجھ بوجھ، بصیرت و تدبیر اور شجاعت کو راہ خدا میں استعمال کرتے تھے ۔
آپ نے جنرل قاسم سلیمانی کے رفیق اور انکے ساتھ شہید ہونے والے عراق کی عوامی رضاکار فورس الحشد الشعبی کے ڈپٹی کمانڈر شہید ابو مہدی المہندس کی محبوب شخصیت کی جانب اشارہ کیا اورانہیں استقامتی محاذ کا ایک نورانی اور مؤثر چہرہ قرار دیا۔