عنقریب وزیر اعلی ہاوس کا گھیراوں کر یں گے اس ہی سلسلے میں کل پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جائیں گے )
لال شہبازقلندرکے مزار پر سیکیورٹی کے نام پر مز ہبی رسومات کو روکنا عوام کے ساتھ صراصر زیادتی ہے )
زائرین کو زیارت اور مراسم عزاداری سےُ روکنا حکومت سندھ کی طرف سے زیادتی ہے)
ہم وزیر اعلی سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عرس سے پہلے مزار کے داخلی راستوں سے رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور سیکیورٹی کے انتظامات مزار کے صحن سے باہر کئے جائیں(علا مہ ناظر عباس تقوی)
کراچی(اسٹاف رپورٹر) شیعہ علماء کو نسل پا کستان صوبہ سندھ کے صدر علامہ سید ناظر عباس تقوی کا صوبائی دفتر سے جاری بیان میں کہنا ہے کہ لال شہباز قلندر کہ عرس سے پہلے مزار پر سیکیورٹی کے فُل پروف انتظامات کئے جائیں سا نحہ لال شہباز قلندر کو گزرے کئی ماہ ہو چکے ہیں لیکن اب تک دہشت گردوں اور اُن کے سہولت کاروں کی گر فتاری کے حوالے سے ہمیں اعتماد میں نہیں لیا جارہا ہے اور عوام کو حقائق سے آگاہ بھی نہیں کیا جارہا ہے جس کی وجہ سے عوام میں بے چینی پائی جاتی ہے اور مزار پر سیکیورٹی کے نام پر مز ہبی رسومات کو روکنا عوام کے ساتھ صراصر زیادتی ہے مزار پر ہونے والی مز ہبی رسومات عوام کا آئینی اور قانونی حق ہے قدیمی علم گاہ کو سیکیورٹی کے نام پر بند اورزائرین کو زیارت اور مراسم عزاداری سےُ روکنا حکومت سندھ کی طرف سے زیادتی ہے اور یہ زیادتی کسی بھی صورت قابل بر داشت نہیں ہے لہذاں عرس سے پہلے قدیمی علم کہ صحن سے رکا وٹیں ختم نہیں کی گی تو ہم عنقریب وزیر اعلی ہاوس کا گھیراوں کر یں گے اس ہی سلسلے میں کل پورے سندھ میں احتجاجی مظاہرے منعقد کئے جائیں گے اور کسی صورت بھی ہم اپنے آئینی اور قانونی حق سے دستبردار نہیں ہو نگے لہذاں ہم وزیر اعلی سندھ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ عرس سے پہلے مزار کے داخلی راستوں سے رکاوٹوں کو ختم کیا جائے اور سیکیورٹی کے انتظامات مزار کے صحن سے باہر کئے جائیں اور قدیمی علم گاہ کو زیارت کے لئے کھولا جائے ہم نے سندھ بھر میں رابطوں کا سلسلہ شروع کردیا ہے اور عنقریب ہم وزیر اعلی ہاوس پر کفن پوش احتجاجی مظاہرہ کریں گے اور حالات کی تما م تر ذمہ داری حکومت پر عائد ہوگی