تازه خبریں

تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔ شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور

راولپنڈی: پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ ہم کسی سے جنگ نہیں چاہتے اور تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات سے حل کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی پہلی میڈیا بریفنگ میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ہم مسائل کا پر امن چاہتے ہیں لیکن عزت و وقار پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔

انھوں نے بتایا کہ پاک فوج نے 09-2008 میں دہشت گردی کے خلاف مہم کا آغاز کیا اور دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے جنوبی اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کیے گئے۔

انہوں نے بتایا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 70 ہزار 920 افراد نے اپنے خون کا نذرانہ پیش کیا۔

آئی ایس پی آر ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں آج امن ہے اور ترقیاتی کام جاری ہیں۔

میجر جنرل آصف ٖغفور کا کہنا تھا کہ ہمیں افغانستان کی صورتحال پر تشویش ہے اور دہشت گردی کی اس جنگ میں ہم اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ افغانستان میں دہشت گردی کی کاروائیوں میں پاکستان کسی بھی طور پر ملوث نہیں ہے، لیکن کچھ عناصر کا کام پاکستان کو ہر صورت میں مورد الزام ٹھہرانا ہے۔

میجر آصف غفور نے گذشتہ برس 29 ستمبر کو ہندوستان کی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر سرجیکل اسٹرائیکس کے دعوے کو بھی ڈرامہ قرار دیا اور کہا کہ ہم یہ کہتے تھے کہ بھارت ‘کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن’ پر کام کر رہا تھا اور اب انڈین آرمی چیف نے بھی اس کی تصدیق کرتے ہوئے اس میں مزید اضافے کا عندیہ دے دیا ہے۔

انھوں نے کہا کہ افواج پاکستان اور عوام بھارت کی ہر قسم کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے تیار ہیں اور کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔

آئی ایس پی آر ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان اپنے دفاع کو مضبوط کرنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا، حال ہی میں ابابیل میزائل کا کامیاب تجربہ پاکستان کے مضبوط دفاع کا آئینہ دار ہے۔