تازه خبریں

وزیر داخلہ کے ایوان بالا میں بیان سے لگتا ہے کہ انہیں کمزور بنایا اور لاعلم رکھا جارہاہے قائد ملت جعفریہ پاکستان

اسلام آباد/راولپنڈی21مارچ 217 ء ( ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حالیہ بیان سے واضح لگتاہے کہ انہیں کمزور کرنے ساتھ ساتھ لاعلم بھی رکھا جارہاہے ، جس کیس کا ذکر وہ ایوان بالا میں کررہے ہیں اس کیس میں فرقہ واریت کا سرے سے تذکرہ ہی نہیں جسے غیر ذمہ داری اور زیادتی کہا جاسکتاہے، قوم کونہیں بتایا گیا کہ ایک مسلمہ کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملنے کے بعد وفاقی دارالحکومت کے قلب میں جلسہ کی اجازت کس کی ایماء پر دی گئی جہاں غلیظ فتوؤں اور نعروں کی ایک جانب کھلی چھوٹ تھی تو دوسری جانب دھمکیاں بھی دی جاتی رہیں ، وزیر داخلہ کو سچ کی تلقین کرنے کے ساتھ ساتھ سچ بتایا بھی جائے اورسچ بولنے کا موقع بھی فراہم کیا جائے ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان کی جانب سے گزشتہ روز سینیٹ میں بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہاکہ کچھ سیاسی جماعتوں کی جانب سے یہ معاملہ تو اٹھایاگیا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے ایک مسلمہ کالعدم تنظیم کے سربراہ سے ملاقات کی جس کا برملا اعتراف خود چوہدری نثار علی خان نے بھی کیا لیکن ایک اہم پہلو یہ ہے کہ اس ملاقات کے بعد وفاقی دارالحکومت میں جو نفرت انگیز جلسہ کیاگیا ، غلیظ فتوے، نعرے لگائے گئے اور سرعام دھمکیاں دی گئیں اس پر نہ تو چوہدری نثار علی خان گویا ہوئے نہ ہی وزارت داخلہ کی جانب سے کوئی احکامات صادر ہوئے جبکہ اسلام آباد انتظامیہ تو ٹس سے مس تک نہ ہوئی دوسری جانب انتہائی حیران کن امر ہے کہ کسی سیاسی جماعت نے بھی اس معاملے پر آواز تک نہیں اٹھائی،جنہوں نے ملاقات کا معاملہ اٹھایا یہ ان کے پیٹ کا مروڑ اور حب علی کی بجائے بغض معاویہ تھا ، آخر یہ سر د مہری کیوں ؟
قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے اپنے بیان میں ہائیکورٹ میں زیر سماعت جس کیس کا تذکرہ کرکے اسے فرقہ وارانہ کیس کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی اس سے ان کی معلومات کا اندازہ بخوبی لگایا جاسکتاہے جبکہ ان کی کمزوری اور بے بسی بھی اسی سے عیاں ہوجاتی ہے جس کیس میں سرے سے فرقہ واریت کا تذکرہ تک نہیں اس انداز میں ایوان بالا میں اسکا ذکرکرنا زیادتی ، کسی دباؤ کا نتیجہ اور بے جا الزام ہے صرف دوسروں کو سچ کی تلقین نہ کی بجائے بلکہ سچے ذرائع سے سچ معلوم کرکے اور حقائق جان کر وزیر داخلہ کو خود بھی پورا سچ بولیں اور اصل حقائق عوام کے سامنے رکھیں، افسوس ہمارے ملک کا المیہ یہ ہے کہ آج تک عوام کو اصل حقائق اور محرکات کے حوالے سے سچ نہیں بتایاگیا