ڈیرہ اسماعیل خان ( ). شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ رمضان توقیر نے کہا ہے کہ پروآ میں ظلم کے خلاف احتجاج کرنے پر مقدمہ درج کرنا حالات خراب کرنے کی سازش ہے، ہمیں دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے قاتل دندناتے پھر رہے ہیں اور مظلوموں پر ہونے والے ظلم پر آواز بلند کرنے والوں پر مقدمہ کا اندراج قابل مزمت اور باعث افسوس ہے، سینکڑوں اکٹھے جنازے اٹھانے کے باوجود کسی اہل تشیع نے کبھی پاک فوج اور پاکستان کے خلاف کبھی نعرہ نہیں لگایا لیکن ڈیرہ اسماعیل خان کی ضلعی انتظامیہ سے ہمیں بے پناہ شکوے ہیں، انھوں نے پروآ تہرے قتل کی واردات کے بعد لواحقین کی طرف سے کیے گئے احتجاج پر مقدمہ درج کیے جانے پر شدید ردعمل دیتے ہوئے علامہ رمضان توقیر نے کہا کہ ہم نے پاکستان میں بم دھماکوں و ٹارگٹ کلنگ کے زریعے ہزاروں جانیں قربان کیں لیکن ہم خوفزدہ نہیں ہوئے ،ان جھوٹے اور بے انصافی پر مشتمل مقدمہ سے خوفزدہ ہونے والے نہیں، انھوں نے کہا کہ پروآ سرکل میں مسلسل ٹارگٹ کلنگ کر کے اہل تشیع کا جانی نقصان کیا جا رہا ہے لیکن اج تک کسی بھی واردات میں ملزمان کو بےنقاب اور گرفتار نہیں کیا گیا ،پروآ سرکل کے اہل تشیع کے قاتل اج بھی کھلے عام دندناتے پھر رہے ہیں لیکن مظلوم طبقہ کی آواز کو دبانے کے لیے اوچھے ہتھکنڈے کر کے اہل تشیع کو دیوار سے لگانے کی کوشش کی جا رہی ہے کیا ہمیں امن و امان قائم رکھنے میں کردار ادا کرنےکی سزاء دی جا رہی ہے، پروآ احتجاج میں شریک ضلع نائب ناظم کو مقدمہ میں کیوں شامل نہیں کیا گیا وہ بھی ہمارے ساتھ تھے، انھوں نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ فوری طور پر مقدمہ خارج کرے بصورت دیگر ہم اس بڑی بے انصافی پر خاموش نہیں رہ سکتے، انھوں نے کہا کہ قابل افسوس ہے ضلعی انتظامیہ کا یہ انصاف کپ جس میں اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز اٹھانے پر انھیں مقدمات سے دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے، انھوں نے کہا کہ اب اگر ضلعی انتظامیہ پروآ سرکل میں مظلوم اہل تشیع کے قاتلوں کو گرفتار کرنے و امن دشمن عناصر کے خلاف سنجیدہ کاروائی نہ کی گئی تو پروآ سرکل میں ہونے والی اس بے انصافی کو پورے ملک کی عوام کے سامنے رکھنے کے لیے اسلام آباد کا رخ کرین گے ،انھوں نے کہا کہ بیش بہا جانی نقصان کے باوجود تشیع نے کبھی پاک فوج و پاکستان کے خلاف نعرہ بازی نہیں کی لیکن مقدمہ میں جھوٹا الزام لگا کر ماحول کو خراب کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ،انھوں نے مطالبہ کیا نیشنل ایکشن پلان پر عمل کرتے ہوئے پروآ سرکل میں چھپے انسان دشمن عناصر کا قلع قمع کیا جائے، انھوں نے اعلان کیا کہ ہم کسی بھی صورت اپنے شہداء کے خون کو نہیں بھول سکتے، ہم انڈس ہائی وے تو کیا پورے پاکستان میں اپنے اوپر ہونے والے ظلم کے خلاف آواز بلند کرنے کا حق رکھتے ہیں، انھوں نے پاک فوج کی قیادت سے بھی پروآ سرکل کے حالات پر خصوصی توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے،