اسلام آباد /راولپنڈی 2اپریل 2017( )پاکستان کے جید اسلامی مکاتب فکر نے ملک میں امن وامان کے قیام،دہشتگردی کے خاتمے،اسلام وملک دشمن عناصر کی سازشوں کامقابلہ کرنے سمیت وطن عزیز پاکستان سے کرپشن ولوٹ مار کاخاتمہ ممکن بناکر اس کو امن ومحبت اخوت وبھائی چارے کا گہوارہ بنانے کا واحد حل اتحاد امت میں مضمر قراردیتے ہو ئے مستقبل میں متفقہ کاوشوں کو فروغ دینے کاعزم ظاہر کیاہے۔اس عزم کااظہار جامعہ الکوثر اسلام آباد میں منعقدہ”علمائے اسلام کانفرنس“ میں کیا گیا۔ اس کانفرنس میں ملک بھر سے تمام مسالک کے جید علمائے کرام نے شرکت کی۔ علماءکرام نے دور حاضر میں درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج امت مسلمہ کو فرقہ بندی میں الجھایا جا رہا ہے فروعی اختلافات کو ابھارا جا رہاہے امت مسلمہ کا خون پانی کی طرح بہایا جا رہا ہے جو مسلمانوں میں اختلافات کو ہوا دے رہے ہیں ایسے عناصر کی حوصلہ شکنی کی جانی چاہیے۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علمائے کرام نے کہا کہ ملک میں فرقہ واریت کو علماءکی متفقہ کاوشوں سے ملی یکجہتی کونسل کے ذریعے دریابرد کردیاگیاہے۔اور اب ملک میں ہونے والی دہشت گردی فرقہ وارانہ نہیں بلکہ خالصتا انتظامی اور لاءاینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے۔جس کی روک تھام اور اپنی عوام کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔جس کی جانب بارہا توجہ دلانے کے باوجود حکومت نے تاحال اس ضمن میں ٹھوس اور سنجیدہ اقدامات نہیں اٹھائے انہوں نے واضح کیا کہ اتحاد امت وقت کی اہم ضرورت ہے جس کے ذریعے فرقہ واریت کے خاتمے کے بعد اب اسلام اور ملک دشمن عناصر سے وطن عزیز پاکستان کو محفوظ رکھنے کےلئے بھی مشترکہ کاوشوں کو فروغ دیاجاناچایئے۔اس موقع پر کانفرنس کے مہمانان خصوصی برادر اسلامی ملک عراق سے آئے ہوئے علمائے کرام علامہ عادل وکیل،سید باقر بخاطی،عبدالجبار محمداوی اور علی القرعاوی تھے۔سید باقر خاطی نے کہا کہ نبی اکرم دو غیر مسلموں کی باہمی جنگ کو بھی پسند نہیں کرتے تھے وہ مسلمانوں کی باہمی جنگ پر کیسے راضی ہو سکتے ہیں اس لیے ہمیں بھائیوں کی طرح امن و سلامتی کے ساتھ زندگی گزارنی چاہیے۔افتتاحی خطاب کرتے ہوئے جامعہ الکوثر کے سربراہ شیخ محسن علی نجفی نے کہا کہ تمام مسالک کے بارے میں غلط فہمیاں پھیلائی گئی ہیں فقہ جعفری کے ماننے والے فقہ اہلبیت رسول سے لیتے ہیں، وحدت اُمت میں ہی ملک و قوم کی بھلائی ہے اس وقت امت کو باہمی اختلافات کو پس پشت ڈال کر متحد ہونا چاہیے۔ قائدملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے وحدت امت کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں مل کر عملی طور پر اس کے لیے کام کرنا چاہیے اور حکم قرآنی تفرقہ میں نہ پڑو پر عمل کرنا چاہیے۔ ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے سربراہ اور جے یو آئی پاکستان نورانی کے سربراہ ڈاکٹر صاحبزادہ ابو الخیر زبیر نے بھی اتحاد امت کو پاکستان میں ملکی اور مذہبی ہم آہنگی کا محور قرار دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں اسی جذبے سے دین اسلام کے دفاع اور دیگر مذاہب کے مابین ہم آہنگی کو فروغ دینے کےلئے علمائے حقہ پر مشتمل دینی قوتوں کے پلیٹ فارم ملی یکجہتی کونسل کامیاب تجربات کرچکی ہے۔مگر حکومتی سطح پر ان کاوشوں کا صحیح طور خیر مقدم نہیں کیاگیا جسکے باعث ملک تاحال مسائل کا شکار ہے۔تاہم انہوں نے کہا کہ مستقبل میں انہی کاوشوں کو مزید مستحکم کرنے کی ضرورت ہے۔ جماعت اسلامی کے مرکزی نائب امیر میاں محمد اسلم نے کہا کہ عالمی استبدادی اور سامراجی قوتوں کی نظریں اسلام کے قلعہ پاکستان پر لگی ہوئیں ہیں اور وہ ملک میں اتحاد امت کو ثبوتاز کرنے کے درپے ہیں۔لہذا ہمیں ان سازشوں کو سمجھ کر ملک میں ہونے والی دہشت گردی کے خاتمے سے نبردآزما ہونے کےلئے اتحاد بین المسلمین کی کاوشوں کو مزید مستحکم کرناہوگا۔اوردیگر مذاہب کو بھی اسلام دشمن عناصر کا چہرہ بے نقاب کرکے دین اسلام کے حقیقی چہرہ جو امن و سلامتی کا پیامبر ہے کو روشناس کراناہوگا۔اجلاس سے پرنسپل جامعہ سلفیہ ڈاکٹر طاہر محمود ، علامہ انتظار الحق تھانوی اورپیر سید ضاءاللہ شاہ بخاری نے بھی خطاب کرتے ہوئے علماءکانفرنس کو وقت کی اہم ضرورت قرار دیا اور دنیا بھر میں اسلام دشمن قوتوں سے نبردآزما ہونے کےلئے علمی،عملی ،سماجی اور معاشرتی میدانوں میں ہاہم متحد ہو کر بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی ضرورت پر زوردیا۔کانفرنس میں متفقہ طورپر داعش کو عالمی دہشت گردتنظیم قرار دیاگیا۔اورکہاگیا کہ داعش کے اقدامات دین اسلام کو عالمی سطح پر بدنام کرنے کی سازش ہے۔جس کے خلاف تمام اسلامی مذہبی قوتیں متحد ہیں۔اور وہ پاکستان میں مل کر اس فتنہ کا راستہ روکیں گی۔کانفرنس میں عقیدہ توحید،ختم نبوت قرآن اور قیامت پر اعتقاد اور اہل بیت علیہم السلام ،اصحاب کرام و ازواج مطہرات کی تکریم کو دین اسلام کی اساس قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر ان اسلامی شعار کی تکریم کو ممکن بنانے کےلئے مشترکہ کاوشوں پر بھی اتفاق کیاگیا۔ کانفرنس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قراردادوں میں سے ایک قرارداد کے ذریعے پاراچنار میں حالیہ دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے دہشت گردی کے خاتمے کےلئے حکومت وقت سے درست سمت میں سنجیدہ اقدامات کرنے کامطالبہ کیاگیا۔کانفرس سے جامعة الکوثر کے سرپرست اعلیٰ علامہ شیخ محسن علی نجفی،پیر سعادت علی شاہ اور اسلامی تحریک پاکستان کے مرکزی سیکریڑی جنرل علامہ عارف حسین واحدی ،مفتی گلزار احمد نعیمی،مولانا عبد الجلیل نقشبندی، مجمع اہل بیت پاکستان کے سربراہ علامہ شبیر حسن میثی،مولانا امین شہیدی اور مولانا تنویر علوی نے بھی خطاب کیا۔