تازه خبریں

وزیراعظم جرات کریں ،علماء سے بیانیہ نہ لیں ریاست کا بیانیہ جاری کریں،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی

وزیراعظم جرات کریں ،علماء سے بیانیہ نہ لیں ریاست کا بیانیہ جاری کریں،قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ ساجد علی نقوی
کثیر الملکی اتحاد مسئلہ کشمیر و فلسطین کیلئے بھی کیا کوئی کردار ادا کریگا ؟ قائد ملت جعفریہ پاکستان
اسلام آباد/راولپنڈی 07 اپریل 2017 ء (دفتر )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ وزیراعظم جرات کریں ،علماء سے بیانیہ نہ لیں ریاست کا بیانیہ جاری کریں ، علماء بیانیہ دے چکے اب مزید بنانیہ کی ضرورت نہیں،آخر کب تک قوم افراتفری، انتشار و فساد کا شکار رہے گی،کثیر الملکی اتحاد تو وجود میں آگیا کیا کثیر الملکی عسکری اتحاد مسئلہ کشمیر و فلسطین کیلئے بھی کوئی کردار ادا کریگا؟ ۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملکی و بین الاقوامی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا۔ علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ علماء کے بیانیے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ مذہبی یا فرقہ وارانہ مسئلہ نہیں ہے، یہ ملکی معاملہ ہے جس کیلئے ریاست کو بیانیہ مرتب کرنے کی ضرورت ہے ، یہ جرات وزیراعظم کریں اور ایسابیانیہ جاری کریں جس سے قوم اضطراب اور کشمکش کی صورتحال سے باہر نکلے اور ملک کی صورتحال معمول پر آئے۔ کب تک عوام افراتفری، انتشار ، فساد کا شکاررہیں گے اور تذلیل و رسوائی برداشت کرتے رہیں گے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ڈاکٹر عاصم حسین جس طرح رہا ہوئے ،ان پر جس طرح الزامات کی بوچھاڑ کی گئی اور پھر وہ تمام الزامات جھاگ کی طرح بیٹھ گئے ملک کی اس بدقسمتی پر روناآتاہے کہ پاک سرزمین کیساتھ کس طرح کھلواڑ کیا جارہاہے یہ سوال ہر ذمہ دار شخص کو اپنے آپ سے کرنا چاہیے کہ کیا ملک جن مقاصد کیلئے حاصل کیاگیا کیا تھا اس کا حق ادا کرنے کی سعی کی گئی ،افسوس ابھی تک ایسا کہیں بھی محسوس نہیں ہوتا ۔
علامہ سید ساجد علی نقوی کا مزید کہنا تھا کہ کثیر الملکی اتحاد تو وجود میں آگیا لیکن کیا یہ اتحاد کشمیر ، فلسطین اور برما کے مسائل کے حل کیلئے بھی کوئی کردار ادا کرے گا ، کیا حکومت پاکستان مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اس پلیٹ فارم سے مستفید ہوسکے گی یا اپنا اثرو رسوخ استعمال کرتے ہوئے کشمیریوں پر جاری مظالم کو رکوانے اور مسئلہ کشمیر حل کرنے کیلئے اس اتحاد میں شامل ممالک کی حمایت و معاونت حاصل کرسکے گی اگر ایسا نہیں ہوا تو پھریہ بات عیاں ہوجائیگی کہ اس اتحاد میں پاکستان کی شمولیت دباؤ کا نتیجہ ہے۔