مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی سازشیں عروج پر ہیں ، شیعہ علماء کو نسل پاکستان
پاک ایران افغانستان کشیدگی تشویشناک قومی سلامتی ترجیح ہو نی چاہیے،علامہ عارف واحدی
معاملات کو باہمی گفت و شنید سے حل کیلئے او آئی سی کااجلاس ضروری ہے، مرکزی سیکرٹری جنرل
اسلام آباد10مئی 2017ء ( ) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ سازشوں کے تحت مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی کی سازشیں عروج پر ہیں، پاک ایران افغانستان کشیدگی تشویشناک ہے، معاملات کو باہمی گفت و شنید سے حل کرنے کی ضرورت ہے، قومی سلامتی کے امور پر سیاست اور جوش کی بجائے ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے،قومی سلامتی اولین ترجیح ،اس معاملے پر کسی بھی سمجھوتے سے گریز کیا جائے،تمام ہمسائیہ ممالک بین الاقوامی سرحدوں کی پاسداری کریں، اسلامی ممالک کے باہمی معاملات کے حل کیلئے اوآئی سی سربراہی اجلاس فی الفور بلایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے خطے کی حالیہ صورتحال پر اپنے تبصرہ میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک عرصہ سے مسلم ممالک میں کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی تھی اور مختلف اوقات میں مختلف سازشوں کے ذریعے اسلامی ممالک میں تناؤ پیدا کرنے کی سازشیں ہوتی رہتی ہیں لیکن دنیا کے بدلتے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو گفت و شنید سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ بیانات اور چند واقعات انتہائی تشویشناک ہیں جبکہ قومی سلامتی کے امور پر سیاست اور بیان بازیاں بھی افسوسناک ہیں اس حوالے سے جوش کی بجائے ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھاکہ پڑوسی ممالک اور خصوصاً برادر اسلامی ممالک سے خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس حوالے سے جو تحفظات منظر عام پر آرہے ہیں انہیں دور کرنے کی بھی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کو بھی محلوظ خاطر رکھا جائے ۔ تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے ہم بھی خواہاں ہیں لیکن تعلقات برابری کی بنیاد پراستوار ہونے چاہئیں، تمام ہمسائیہ ممالک بین الاقوامی سرحدوں کی پاسداری کریں۔علامہ عارف واحدی کا مزید کہنا تھا کہ ایک عرصہ سے سازش کے تحت عالم اسلام کو افراتفری اور انتشار کا شکار رکھا جارہا ہے تاکہ ترقی کا راستہ رو ک کر مسلمانوں کوپستی کے گھپ اندھیروں میں دھکیلا جائے ، عراق ، شام، یمن ، بحرین، مصر ، لیبیا ، افغانستان، کشمیر و فلسطین میں اغیار کی جاری کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ایسے حالات میں امت مسلمہ کو ایک جگہ مل بیٹھنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ او آئی سی کا سربراہی اجلاس فی الفور بلایا جائے اور عالم اسلام کو درپیش مسائل خصوصاً مسلم ممالک میں بڑھنے والی کشیدگی اور اس کے سدباب کیلئے اقدامات تجویز کئے جائیں۔
پاک ایران افغانستان کشیدگی تشویشناک قومی سلامتی ترجیح ہو نی چاہیے،علامہ عارف واحدی
معاملات کو باہمی گفت و شنید سے حل کیلئے او آئی سی کااجلاس ضروری ہے، مرکزی سیکرٹری جنرل
اسلام آباد10مئی 2017ء ( ) شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ سازشوں کے تحت مسلم ممالک کو آپس میں لڑانے کی کی سازشیں عروج پر ہیں، پاک ایران افغانستان کشیدگی تشویشناک ہے، معاملات کو باہمی گفت و شنید سے حل کرنے کی ضرورت ہے، قومی سلامتی کے امور پر سیاست اور جوش کی بجائے ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے،قومی سلامتی اولین ترجیح ،اس معاملے پر کسی بھی سمجھوتے سے گریز کیا جائے،تمام ہمسائیہ ممالک بین الاقوامی سرحدوں کی پاسداری کریں، اسلامی ممالک کے باہمی معاملات کے حل کیلئے اوآئی سی سربراہی اجلاس فی الفور بلایا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے خطے کی حالیہ صورتحال پر اپنے تبصرہ میں کیا۔ انہوں نے کہاکہ ایک عرصہ سے مسلم ممالک میں کشیدگی کو ہوا دینے کی کوشش کی جارہی تھی اور مختلف اوقات میں مختلف سازشوں کے ذریعے اسلامی ممالک میں تناؤ پیدا کرنے کی سازشیں ہوتی رہتی ہیں لیکن دنیا کے بدلتے تناظر میں ضرورت اس امر کی ہے کہ معاملات کو گفت و شنید سے حل کرنے کی کوشش کی جائے۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ بیانات اور چند واقعات انتہائی تشویشناک ہیں جبکہ قومی سلامتی کے امور پر سیاست اور بیان بازیاں بھی افسوسناک ہیں اس حوالے سے جوش کی بجائے ہوش سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔
علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھاکہ پڑوسی ممالک اور خصوصاً برادر اسلامی ممالک سے خوشگوار تعلقات کے خواہاں ہیں لیکن اس حوالے سے جو تحفظات منظر عام پر آرہے ہیں انہیں دور کرنے کی بھی ضرورت ہے اور اس کے ساتھ ساتھ قومی سلامتی کو بھی محلوظ خاطر رکھا جائے ۔ تمام ممالک کے ساتھ خوشگوار تعلقات کے ہم بھی خواہاں ہیں لیکن تعلقات برابری کی بنیاد پراستوار ہونے چاہئیں، تمام ہمسائیہ ممالک بین الاقوامی سرحدوں کی پاسداری کریں۔علامہ عارف واحدی کا مزید کہنا تھا کہ ایک عرصہ سے سازش کے تحت عالم اسلام کو افراتفری اور انتشار کا شکار رکھا جارہا ہے تاکہ ترقی کا راستہ رو ک کر مسلمانوں کوپستی کے گھپ اندھیروں میں دھکیلا جائے ، عراق ، شام، یمن ، بحرین، مصر ، لیبیا ، افغانستان، کشمیر و فلسطین میں اغیار کی جاری کارروائیاں اسی سلسلے کی کڑیاں ہیں ایسے حالات میں امت مسلمہ کو ایک جگہ مل بیٹھنا ہوگا۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ او آئی سی کا سربراہی اجلاس فی الفور بلایا جائے اور عالم اسلام کو درپیش مسائل خصوصاً مسلم ممالک میں بڑھنے والی کشیدگی اور اس کے سدباب کیلئے اقدامات تجویز کئے جائیں۔