امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی اٹھائیسویں برسی پاکستان سمیت دنیا بھر میں اجتماعات
پاکستان میں امام خمینیؒ کے نمائندے اور نمائندہ رہبر انقلاب آیت اللہ سید علی خامنہ ای قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجدعلی نقوی نے بھی اس روزکی مناسبت سے امام خمینی کی برسی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینی کی فکر کو زندہ رکھنے کا سب سے بہتر طریقہ یہ ہے کہ جو نقوش انہوں نے چھوڑے ہیں ان کو مزید توانان بنایا جائے ان کا مزید کہنا تھا کہان کی ملاقات امام خمینی سے جب ہوئی تو وہ علیل تھے ان کے ساتھ مرحوم آیت اللہ اللہ فضل اللہ بھی تھے امام خمینی نے فرمایا کہ میں آپکو نصیحت کرتا ہوں کہ اتحاد امت کےلئے کوششیں کریں آیت اللہ ساجد علی نقوی کا کہنا ہے کہ وہ اس کو نصیحت بھی اور وصیت بھی سمجھتےہیں اور اب تک اتحاد امت کے لئے جو کوششیں پاکستان میں ہوئیں اس کی مثال پوری دنیا میں نہیں ملتی
آج چار جون مطابق نو رمصان المبارک اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ کی رحلت جانگداز کی اٹھائیسویں برسی ہے اس مناسبت ایران سمیت پوری دنیا میں مجالس عزا سیمیناروں اور کانفرنسوں کا اہتمام کیاگیا جن میں امام خمینی کی زندگی کے مختلف پہلوؤں کے جائزے کے ساتھ ہی اسلام کی حیات نو، اسلامی بیداری، مسلم اقوام کو اسلامی تشخص دلانے اور اتحاد بین المسلمین میں ان کے کردار پر روشنی ڈالی گئی۔
اٹھائیس سال قبل ایرانی کلینڈر کی تاریخ چودہ خرداد مطابق چار جون انیس سو نواسی کو رہبرکبیر انقلاب اسلامی اور اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی نے جد وجہد سے بھرپور اپنی ستاسی سالہ حیات پوری کرنے کے بعد داعی اجل کو لبیک کہا اور خالق حقیقی سے جاملے – امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے شاہ کی ظالم حکومت اور ایران میں امریکی مداخلت کے خلاف اپنی جد وجہد انیس سو ترسٹھ میں شروع کی – اور شاہی حکومت نے انہیں ترکی جلاوطن کردیا اور پھر اس کے بعد عراق جلاوطن کردئے گئے۔
امام خمینی عراق میں اپنی تیرہ سالہ جلاوطنی کے دوران بڑی تعداد میں شاگردوں کی تربیت کرنے کے ساتھ ساتھ ایران میں مسلط ظالم شاہی حکومت کی فاسد ماہیت اور یران میں امریکی مداخلت اور سامراجی طاقتوں کے عزائم کا پردہ چاک کرتے رہے اور اس عرصے میں انہوں نے اور وقفے وقفے سے اعلامئے اور بیانات جاری کرکے اسلامی انقلاب کی کامیابی کی زمین ہموار کی.بالآخر ایران میں اسلامی انقلاب کی تحریک کے زور پکڑنے، امام خمینی کو عراق سے فرانس جلاوطن کردئے جانے اور پھر فرانس سے ان کی فاتحانہ انداز میں وطن واپسی کے بعد گیارہ فروری انیس سو اناسی کو اسلامی انقلاب ایک طویل جد و جہد کے نتیجے میں کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بڑی طاقتوں اور ملکی اور غیر ملکی دشمنوں کی سازشوں منجملہ عراق کی بعثی حکومت کے ذریعے ایران پر مسلط کی گئی آٹھ سالہ جنگ کے باوجود امام خمینی نے اس دور کے انتہائی سخت اور دشوار حالات میں پوری درایت اور شجاعت کے ساتھ ایرانی عوام کی قیادت اور رہبری کی۔
مام خمینی رحمت اللہ علیہ کی اٹھائیسویں برسی کی مناسبت سے اتوار کی شام ان کے حرم مطہر میں ایک بہت بڑے بین الاقوامی پروگرام کا اہتمام کیا گیا ہے جس میں ایران اور دنیا کے مختلف ملکوں سے تعلق رکھنے والے مہمان اور ان کے عقیدت مندوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہوگی اور اس عظیم اجتماع اور برسی کے پروگرام کو رہبرانقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای خطاب فرمائیں گے.