سبط اکبر امام حسن مجتبی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے کل رات سے ہی پاکستان کے سبھی چھوٹے بڑے شہروں میں محافل مقاصدہ اور جشن کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا
اس پرمسرت موقع پر ملک کے تمام شہروں اور قصبوں دیہاتوں کی مساجد اور مذہبی مقامات پر محافل مقاصدہ اور خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا اور لوگوں نے اس موقع پر افطار کے وقت اور اس کے بعد مٹھائیاں تقسیم کیں–
پندرہ رمضان المبارک کی مناسبت سے خاص طور پر جگہ جگہ افطار کے لئے اسٹال لگائے گئے تھے جبکہ ماہ رمضان کے باقی ایام میں بھی لوگوں کے افطار کے لئے جگہ جگہ اسٹال لگے ہوئے ہیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان ا علامہ سید ساجد علی نقوی نے نواسہ رسول اکرم حضرت امام حسن علیہ السلام کی ولادت باسعادت کے موقع پر کہاکہ امام حسن علیہ السلام جوانان جنت کے سردار ہیں۔ آپ کے علم‘ حلم‘ جلالت اور کرامت میں عکس رسول اکرم واضح طور پر نظر آتا ہے۔
آپ وارث علیؑ و نبی ہونے کے ناطے حضرت علی علیہ السلام کے بعد امامت کا درجہ رکھتے ہیں آپ نے جس انداز میں ظاہری زندگی بسر فرمائی اور امن و اخوت اور صلح و محبت کی لاثانی روایات قائم کیں ان سے سیرت رسول کی عکاسی ہوتی ہے۔ صلح امام حسن علیہ السلام عالم اسلام کے لئے نقطہ آغاز کا مقام رکھتی ہے جس سے سبق حاصل کرکے مسلمان انتشار و افتراق‘ جنگ و جدال اور قتل و غارت گری سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔
حضرت امام حسنؑ نے جن مشکل‘ کٹھن اور سنگین حالات میں امت مسلمہ کو جنگ اور فساد سے بچانے کے لئے اور اسلام کی بقاءکے لئے اپنے حریف سے صلح کی یہ ان کے کردار کی خصوصیت اور سیرت کا امتیاز ہے۔ تنگ نظری‘ ذاتی خواہش اور انفرادی مفاد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مسلمانوں کے اجتماعی مفادات کے حصول اور اسلام کے استحکام کے لئے باہمی رواداری اور صلح و محبت کا ماحول بناکر آپ نے گہرے نقوش چھوڑے ہیں۔علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ جس طرح نواسہ رسول حضرت امام حسن ؑ نے اپنے حریف سے تاریخی صلح کرکے اسلام اور امت مسلمہ کو انتشار سے بچالیا اسی طرح اتحاد و اخوت اور وحدت مسلمین کے لئے ہم سب کی اجتماعی کوششوں سے پاکستان انتشار و افتراق سے بچ گیا ہے اور پاکستانی عوام اخوت کی لڑی میں پروئے جاچکے ہیں۔ لہذا ایسی خدمات سے انحراف کرنے والوں کو نواسہ رسول حضرت امام حسن ؑ کے افکار اور سیرت سے استفادہ کرنا چاہیے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے یہ بات زور دے کر کہی کہ آج کے اس کٹھن دور میں جب مسلمان فرقہ واریت‘ مسلک پرستی‘ دہشت گردی اور اخلاقی جرائم میں مبتلا ہیں وقت کا تقاضا ہے کہ ان مسائل سے نبرد آزما ہونے اور اختلافات کو جڑوں سے اکھاڑنے کے لئے باہمی صلح و رواداری کو فروغ دیا جائے اور فروعی اختلافات کو نظر انداز کرتے ہوئے سینکڑوں مشترکات پر بلاتفریق فرقہ و مسلک جمع ہوکر اسلام و مسلمین کو متحد کیا جائے اسی سے دین اسلام کو مستحکم ہوگا اور مسلمان ‘خدا کی دنیا کے وارث ہوں گے۔
اطلاعات ہیں کہ آسمان امامت و ولایت کے دوسرے درخشاں ستارے فرزند رسولۖ حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام کے یوم ولادت باسعادت کی مناسبت سے جگہ جگہ خصوصی تقریبات اور محلفوں کا انعقاد کیا گیا ہے–
حضرت امام حسن مجتبی علیہ السلام پندرہ رمضان المبارک سن تین ہجری قمری کو مدینہ منورہ میں اس دنیا میں تشریف لائے۔
آپ حضرت علی (ع) اور حضرت فاطمہ علیھماالسلام کے کاشانہ عصمت کے پہلے چشم و چراغ تھے جو سورہ کوثر کی مکمل تفسیر بن کر آغوش عصمت میں اترے۔
سرکار دوعالم حضرت محمد مصطفی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم خدا سے اپنے پہلے نواسے کا نام حسن رکھا–
جعفریہ پریس اس مبارک موقع پر ہدیہ تبریک و تہنیت پیش کرتا ہے۔