مغرب کے لئے آیت اللہ العظمی سیستانی کے سات پیغامات - 1

مغرب کے لئے آیت اللہ العظمی سیستانی کے سات پیغامات – 1

آیت اللہ العظمی سیستانی نے، پوپ فرانسس کی نجف میں ان سے ملاقات، نے ایک بیان جاری کیا جو علاقے اور دنیا کے بہت سارے مسائل کے حوالے سے بہت اہم پیغامات پر مشتمل تھا۔ انھوں نے یہ اہم پیغامات دنیا کے کیتھولک عیسائیوں کے دینی پیشوا کے توسط سے دنیا تک پہنچا دیئے اور ان پیغامات کا رخ زیادہ تر استکباری طاقتوں کی جانب تھا۔
آیت اللہ العظمی سیستانی کے سات پیغامات کیا تھے؟
امریکہ کا سولہواں صدر ابراہیم لنکن (1861–1865 کہتا ہے: “پہلے فیصلہ کرو کہ ایک کام ہوسکتا ہے اور اس کو ہونا چاہئے، اس کے لئے راستہ تلاش کرلوگے”۔ لنکن اس بنا پر اس تصور تک پہنچا تھا کہ موجودہ پر آشوب دنیا میں جو چیز اقوام کے لئے راستہ ہموار کرتی ہے، ہدف کا تعین اور اس کے حصول کے لئے عزم و ارادہ ہے، اور آج کے دن، ملت عراق اس قسم کے عزم و ارادے کا اتم نمونہ ہے اور اس عزم و ارادے کا نام “مقاومت” (مزاحمت) ہے۔
مورخہ 5 مارچ 2021ء کو کیتھولک عیسائیت کے عالمی پیشوا اور ویٹیکن حکومت کے سربراہ پوپ فرانسس نے عراق کے دورے کے موقع پر نجف اشرف میں مرجع تقلید آیت اللہ سید علی سیستانی سے ملاقات کی۔ پوپ دین و سیاست کی جدائی کی علامت ہیں مگر آیت اللہ سیستانی نے اس ملاقات کے دوران دین و سیاست کے ازلی پیوند کی ابدیت کو قلب تاریخ میں قائم و دائم کردیا۔ اور سلامتی، ثقافت اور سیاست کے حوالے سے اپنی آگہی اور بصیرت کا ناقابل انکار ثبوت دیا۔ ان کے موقف و کردار نے دنیا بھر مسلم اور غیر مسلم مبصرین کی توجہ اپنی طرف مبذول کروائی اور عالمی ذرائع ابلاغ ہنوز اس مختصر سی ملاقات کے مختلف پہلؤوں پر تبصرے نشر کررہے ہیں۔
آیت اللہ العظمی سیستانی نے، پوپ فرانسس کی نجف میں ان سے ملاقات، نے ایک بیان جاری کیا جس کا تجزیہ یہاں پیش خدمت ہے:
آیت اللہ سیستانی کے بیان میں سات “نہیں” یا سات “نامنظور”
ان کے بیان میں مغرب اور اس کے عالمی حلیفوں کی پالیسیوں کو سات بڑے “نہیں” (یا نامنظوریاں) مضمر ہیں۔ ان نامنظوریوں سے ایک طرف سے، نجف کی مرجعیت عالیہ کے سیاسی نقطۂ نظر کی نشاندہی ہوتی ہے اور دوسری طرف سے پوپ فرانسس کو ایک پیغام دیا ہے کہ وہ اسے مغربی سیاستدانوں اور ان کے حلیفوں تک پہنچا دیں۔  
1۔ جنگ اور تشدد؛ نامنظور!
آیت اللہ سیستانی نے پوپ کے ساتھ اپنی ملاقات میں اقوام عالم بالخصوص مظلوم اور نہتی قوموں کے خلاف جنگ اور تشدد کی نفی کی ہے۔
مغرب نے حالیہ 4 عشروں سے اپنی انسان دشمن پالیسیوں کو ترک نہیں کیا اور اپنی پوری قوت سے اپنے معاشروں کے اندرونی بحرانوں کو مظلوم اور نہتی قوموں کی طرف منتقل کرکے ان پر مسلط کیا۔ عراق اور افغانستان پر حملہ، القاعدہ اور اس جیسے دوسرے دہشت گرد ٹولوں کی حمایت، شام اور عراق اور حتی کہ یمن، نائیجریا، افغانستان اور پاکستان میں داعش کو معرض وجود میں لانے اور مسلح کرنے، عراق کی ممتاز علمی، سائنسی اور سیاسی شخصیات کو دہشت گردی کا نشانہ بنانے، گذشتہ سال بغداد کے ہوائی اڈے کے باہر دہشت گردانہ حملہ کرکے مقاومت کے داعش شکن اعلی کمانڈروں کو شہید کرنے جیسے اقدامات، جن کی ذمہ داری امریکہ اور اس کے بڑے چھوٹے حلیفوں پر عائد ہوتی ہے۔  
عراق سے عدم انخلاء کے لئے بہانہ سازیوں، اور عراق میں امریکی مفادات کے تحفظ کے لئے سیاستدانوں کا نیٹ ورک قائم قائم کرنے جیسے مضر امریکی اقدامات سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکی جتانا چاہتے ہیں کہ عراق کی سیاسی صورت حال کو افراتفری اور لاقانونیت کا شکار ہے، یوں وہ امن و امان کی صورت حال کو نہایت خوفناک بنا کر اپنے انخلاء کو ملتوی کرنا چاہتے ہیں حالانکہ میدانی حقائق سے بخوبی ظاہر ہوتا ہے کہ عراق کی صورت حال معمول کے مطابق ہے اور پھر امریکیوں کا عدم انخلاء عراقی عوام کے مطالبے سے متصادم اور عراقی پارلیمان کے منظور کردہ قانون کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے۔
امریکیوں، برطانویوں اور ان کے دوسرے یورپی اور غیر یورپی حلیفوں نے گذشتہ 20 برس کے عرصے میں اس ملک کے اندر دہشت گردی، جنگ اور مختلف قسم کے بموں اور ہتھیاروں کے عراقی عوام پر آزما لیا ہے اور ان کی روح و جسم کو مجروح کرنے کے علاوہ، ان کی حال اور شاید اگلی صدیوں تک کی نسلوں کو شدید سنگین جینیاتی عوارض سے دوچار کردیا ہے۔ پوپ کی آیت اللہ سیستانی کے ساتھ ملاقات سے جو پیغام دنیا کو پہنچایا گیا یہ تھا عراق کی اعلی مرجعیت نے عراق اور دوسرے ممالک میں امریکہ اور اس کے مغربی اور علاقائی گماشتوں کی دہشت گردی کو نامنظور کرلیا ہے اور اس کو “نہیں” کہا ہے۔
2۔ سماجی ناانصافی نامنظور
آج کے جدید زمانے میں بہت سے ممالک پر مسلط حکومتیں سماجی نا انصافی کو توجہ نہیں دیتیں اور اگر اپنے سیاسی مخالفین یا ناقدین کو یکطرفہ طور پر ناانصافی کا نشانہ بناتی ہیں اور ان کی تنقید کو کچل دیتی ہیں۔
امریکہ میں سیاسی اور سماجی ناراضگی اور بھوک و افلاس میں اضافہ، برطانیہ اور فرانس میں سیاسی و اقتصادی سرکوبیاں، سعودی حکام کی تکفیری اور دہشت گردانہ پالیسیاں، علاقے کی اقوام کے خلاف یہودی ریاست کی مسلسل سازشیں اور اس غاصب ریاست کے حکمرانوں کے ہاتھوں فلسطین کے مظلوم عوام پر کا قتل عام، شہریوں کے حقوق کی پامالی اور عالمی اداروں کی طرف سے مغرب اور ان کے گماشتوں کے مظالم پر چشم پوشی کا نمایاں ثبوت ہے۔
سماجی انصاف کے متعدد پہلو ہیں اور امریکہ اور اس کے حلیفوں کی طرف سے عراق اور عراق جیسے دوسرے ممالک کی حکومتوں کے معاملات میں مسلسل مداخلت عراق میں واحد معاشرے کی تشکیل اور عراقی و دیگر ممالک کے عوام کے لئے سماجی انصاف کے موجبات کی فراہمی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
3۔ اقتصادی پابندیاں نامنظور
معاشی مقاطعہ اور پابندیاں، تاریخ اسلام کے صدر اول سے آج تک دشمنان اسلام کے ہتھیاروں میں شامل ہیں۔ دشمنان اسلام نے صدر اول میں حضرت رسول اکرم(ص) اور مسلمانوں کو تین سال تک شعب ابی طالب میں گھیرے رکھا اور ان کا مقاطعہ کیا۔ شعب ابی طالب میں مسلمانوں کے محاصرے کا واقعہ بہت سے اسباق اور عبرتوں کا باعث تھا۔ آیت اللہ سیستانی نے علاقے کے بعض ممالک سمیت دنیا کے مختلف ممالک پر امریکہ کی ظالمانہ اقتصادی پابندیوں کی دو ٹوک الفاظ میں مخالفت کی جو بہت اہم مسئلہ ہے اور انھوں نے اپنی مخالفت کا پیغام پوپ فرانسس کے توسط سے دنیا تک پہنچا دیا۔
امریکہ اور اس کے حلیفوں نے 40 برس سے ملت ایران کا اقتصادی محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے اور وہ اپنے اہداف کے حصول کی راہ میں کسی بھی انسان دشمن اقدام سے دریغ نہیں کرتے۔
امریکہ اور اس کے مغربی حلیفوں نے بنی سعود اور بنی نہیان کے ذریعے قدیم تاریخ و تہذیب کے امین ملک یمن کو گذشتہ چھ سال کے عرصے سے شدید ترین جارحیت اور معاشی پابندیوں کا نشانہ بنایا ہؤا ہے اور ظلم و جبر کی ان قوتوں نے یمن میں قتل عام اور عوام کو فاقہ کشیوں سے دوچار کرنے اور بھوکوں مارنے کا سلسلہ جاری رکھا ہؤا ہے؛ اور یہ یقینا ایک تاریخی نسل کشی ہے جس کا اصل سبب امریکہ اور اس مغربی حواریین اور علاقائی گماشتے ہیں۔  
آیت اللہ سیستانی کا موقف اور “اقتصادی محاصرے” کو “نہیں” کہنا، درحقیقت یہ پیغام پہنچانے کے سلسلے میں ان کی کوشش ہے کہ نجف کی اعلی مرجعیت نے درندہ صفت مغرب اور جرائم پیشہ امریکہ کی پالیسیوں کے مد مقابل بالکل شفاف موقف اختیار کیا ہے