• جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو بطور چیف جسٹس مبارکباد پیش کرتے ہیں علامہ شبیر حسن میثمی
  • یکم ربیع الاول کے احتجاج کی تیاریوں پر اظہار تشکر مزید تیاری رکھنے پر تاکید دفتر قائد ملت جعفریہ پاکستان
  • علامہ سید تقی شاہ نقوی سندھ کے دورے پر
  • امام حسین نے بقائے اسلام کیلئے عظیم قربانی دی، علامہ عارف واحدی
  • شیعہ علماء کرام کا خصوصی وفد گلگت پہنچ گیا علامہ شبیر میثمی وفد کے ہمراہ
  • آیت اللہ شیخ محمد حسین نجفی کے انتقال پر علامہ شبیر حسن میثمی کی تعزیت
  • یــوم آزادی پاکســـتان محبـــت اخوت اور تمام طبقات کےحقوق کا درس دیتا ہے
  • قیادت و تنظیم کے وفادار مولانا غلام عباس جویو انتقال کرگئے
  • متنازعہ فوجداری بل بارے جلد قومی لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا، علامہ شبیر میثمی
  • نواب شاہ کے قریب ٹرین حادثے میں قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہیں

تازه خبریں

اخلاق خمینی (رح) کی کچھ جھلکیاں!

اخلاق خمینی (رح) کی کچھ جھلکیاں!

بانی انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ایک فقیہ، عارف، مدبر اور اخلاق اسلامی و انسانی سے مزین لاثانی شخصیت کے مالک تھے جنہوں نے اپنی ذاتی و اکتسابی خصوصیات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران میں ایک ایسا انقلاب برپا کیا جس نے پوری دنیا میں ایک ولولہ پیدا کر دیا۔

اسلامی بنیادوں پر استوار ایسا انقلاب جس نے ایک طرف تو حق و انصاف کے متوالوں اور دبے کچلے لوگوں کو قوت قلب عطا کی، انکے دلوں میں امید کا چراغ روشن کیا اور دوسری طرف ظلم و استبداد اور سامراجیت کے ایوانوں میں لرزہ پیدا کر دیا۔ سامراجیت نے اپنا نحس وجود خطرے میں محسوس کیا تو ایک محاذ آرائی کا آغاز ہوا۔ اسلام و کفر اور مستضعفین و مستکبرین کے درمیان محاذ آرائی، جو بدستور جاری ہے۔

۴ جون سنہ ۱۹۸۹ کو علم و اخلاق کا پیکر خمینی بت شکن اس دنیا سے رخصت ہوا، مگر آج بھی اسکے فراق میں آنکھیں اشک بار ہو جاتی ہیں۔شک نہیں کہ انسان جب تک خدائے لازوال سے قلبی و روحی طور پر منسلک نہ ہو تب تک وہ دنیا کے کروڑوں دلوں میں حق و حقیقت و انصاف کا چراغ روشن کر کے انہیں اپنا گرویدہ نہیں بنا سکتا۔ اس وقت دنیا کے چپے چپے پر خمینی بت شکن روح اللہ رحمۃ اللہ علیہ کا نام لینے والے اور ان کی ڈگر پر چلنے والے موجود ہیں۔

آئیے انقلاب اسلامی کے بانی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی بعض اخلاقی خصوصیات سے آشنا ہوتے ہیں۔

(۱) ایک مرتبہ حکومتی عہدے داروں میں سے ایک صاحب اپنے سن رسیدہ والد کے ہمراہ امام خمینی (رہ) کی خدمت میں پہونچے۔ پھر جب ان کا کام ختم ہوا اور وہ واپس آئے تو انہوں نے بتایا کہ ’’میں امام خمینی کی خدمت میں جانا چاہتا تھا تو جاتے ہوئے میں آگے چل رہا تھا اور میرے والد میرے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ امام خمینی (رہ) کی خدمت میں جب ہم لوگ پہونچے تو میں نے اپنے والد کا تعارف کروایا۔ امام خمینی (رہ) نے بڑے معنیٰ دار انداز میں مجھے دیکھا اور فرمایا: یہ جناب آپکے والد ہیں؟! تو آخر کیوں آپ انکے آگے چلتے ہوئے آئے اور ان سے پہلے کمرے میں داخل ہوئے؟!

(۲) جس وقت آیت اللہ العظمیٰ محسن الحکیم کا انتقال ہوا تو ایران کے ایک شہر میں انکے وکیل نے ایک خط نجف میں امام خمینی کے نام ارسال کیا اور ان سے اجازت طلب کی کہ وہ اُس شہر میں انکے نمائندے اور وکیل کی حیثیت سے کام کریں۔ امام خمینی (رہ) نے ایک معمولی اجازت نامہ انکے لئے جاری کیا اور بھیج دیا۔ مگر وہ جناب اُس معمولی وکالت پر راضی نہ ہوئے اور انہوں نے یہ خواہش ظاہر کی کہ امام خمینی ان کو اُس پورے شہر اور صوبے کے لئے اپنا وکیل مقرر کر دیں۔ اس سلسلے میں امام خمینی کے صاحبزادے مصطفیٰ خمینی نے بھی ان کی سفارش کی اور کہا کہ یہ صاحب آپ کے وکیل کے طور پر کام کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں اور اس سے قبل وہ آیت اللہ العظمیٰ حکیم کے وکیل بھی رہ چکے ہیں۔ مگر امام خمینی نے فرمایا کہ نہیں’’ جتنا ہم نے لکھا ہےاتنا کافی ہے‘‘۔ اس کے بعد آیت اللہ حکیم کے وکیل نے امام خمینی کو ایک اور خط لکھا کہ جس میں دھمکی دی کہ اگر آپ مجھے اپنا وکیل نہیں بنائیں گے تو میں علاقے کے عوام سے کہوں گا کہ وہ آپ کی تقلید چھوڑ دیں! امام خمینی (رہ) نے جواب میں تحریر کیا: ’’ اگر آپ یہ خدمت میرے حق میں کر دیں تو میں تا روز قیامت آپ کا احسان مند رہوں گا، ایسی صورت میں آپ میرا بوجھ ہلکا کر دیں گے، اگر لوگ میری تقلید کرنا چھوڑ دیں تو میرے ذمہ داری کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا۔

(۳) امام خمینی (رح) کے ایک قریبی عزیر نقل کرتے ہیں کہ اگر کبھی بے توجہی کی بنا پر قرآن کریم کبھی فرش یا قالین پر رکھ دیتے تو امام خمینی فورا اُسے اٹھا لیتے اور فرماتے کہ قرآن کریم کو فرش پر (بھی) نہیں رکھنا چاہئے۔ امام خمینی تلاوت قرآن اور مجالس عزا اور مصائبِ اہلبیت (ع) کے وقت زمین پر بیٹھا کرتے تھے۔ جس وقت پیرس سے تہران واپسی پر جہاز سے اترنا چاہتے تھے، اپنے بڑے بھائی کے آگے چلنے پر کسی قیمت پر تیار نہ ہوئے۔ امام خمینی (رح) سب کے ساتھ نہایت احترام کے ساتھ پیش آتے تھے، انکی زندگی میں کبھی یہ نہیں دیکھا گیا کہ کسی کو انہوں نے بصدائے بلند پکارا ہو۔ اپنے گھر میں کام کرنے والوں کا بھی نہایت احترام سے نام لیتے تھے۔

(۴) سید حمید روحانی صاحب نے ایک عالم دین کے حوالے سے نقل کیا:  ایک بار گرمی کے موسم میں ہم کئی لوگ مل کر امام خمینی (رہ) کے ہمراہ مشہد مقدس زیارت کو گئے۔ ہمارا روز کا پروگرام یہ رہتا کہ دوپہر بعد کچھ دیر آرام کرتے، پھر اٹھ کر سب ساتھ میں زیارت کے لئے حرم چلے جایا کرتے تھے اور وہاں نماز، زیارت اور دعا وغیرہ پڑھنے کے بعد سکون سے گھر واپس آتے تھے۔  گھر جس میں ہمارا قیام تھا، اس کا صحن بڑا اچھا تھا، وہیں بیٹھ کر چائے وائے پیا کرتے تھے۔ امام خمینی (رہ) کا روز یہ دستور تھا کہ وہ ہم سب کے ساتھ زیارت کے لئے حرم جاتے مگر جلدی جلدی اپنی زیارت، نماز اور دعاؤں کو مکمل کر کے ہم سے پہلے واپس گھر آجاتے، چائے وائے کا بندوبست کرتے، صحن میں سب کے بیٹھنے کے لئے فرش بچھاتے اور جب ہم حرم سے واپس آجاتے تو سب کے لئے وہ خود ہی چائے نکالتے اور دیتے۔ میں نے ایک دن امام خمینی (رہ) سے سوال کیا کہ یہ آخر آپ کیا کرتے ہیں کہ ہمارے لئے چائے بناننے کی خاطر اپنی نماز و زیارت کو مختصر کر کے جلدی سے گھر لوٹ آتے ہیں؟! امام خمینی (رہ) نے جواب میں فرمایا: میں اس کام کے ثواب کو بھی زیارت و دعا کے ثواب سے کم نہیں سمجھتا۔

(۵) امام  خمینی (رہ) کی کسی پوتی یا نواسی نے اُن سے پوچھا کہ ہم ایسا کیا کریں کہ ہمارے شوہر بھی ویسے ہی ہمارے ساتھ پیش آئیں جیسے آپ اپنی اہلیہ کے ساتھ (مہربانی و احترام سے) پیش آتے ہیں؟ امام خمینی نے جواب دیا: ’’تم بھی ایثار و فداکاری سے کام لیا کرو‘‘