تازه خبریں

جامعۃ اہلِ البیت

جامعۃ اہلِ البیت اسلام آباد کی 50 سالہ سالگرہ | بانی شیخ محسن علی نجفی کی علمی یادگار

جامعۃ اہلِ البیتؑ: 50 سالہ علمی و قیادتی سفر

چمنستانِ علوم و آگہی، جامعۃ اہلِ البیتؑ، اسلام آباد، 1975ء میں محسنِ ملت علامہ شیخ محسن علی نجفیؒ کے وژن سے وجود میں آیا۔ چند طالب علموں، محدود وسائل اور ایک چھوٹے چھپڑ کے کنارے سے شروع ہونے والا یہ ادارہ آج ایک بلند و بالا علمی و قیادتی نظام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

بانی شیخ محسن علی نجفیؒ نے نہ صرف دینی تعلیم کو فروغ دیا بلکہ نوجوان علماء کو قیادت اور کردار کی تربیت بھی فراہم کی۔ نجف اشرف میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد انہوں نے وطن واپسی پر جامعۃ اہلِ البیتؑ کی بنیاد رکھی، جس کا سنگِ بنیاد سید جمال خوئیؒ نے 1975ء میں رکھا۔

اہم علمی کارنامے

جامعۃ اہلِ البیتؑ سے تیس سے زائد مدارس وجود میں آئے، جہاں سے فارغ التحصیل علماء دنیا بھر میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔

یہاں سے ماہنامہ الزہرہ کا اجراء ہوا اور تفسیرِ کوثر جیسا عظیم علمی کام تحریر ہوا۔

اسی ادارے کی بنیاد پر اسوہ ایجوکیشن کا آغاز ہوا، اور آج جامعۃ اہلِ البیتؑ اس کا ہیڈکوارٹر بھی ہے۔

شیعہ قیادت اور عالمی اثر

جامعہ کی فکری اور اخلاقی مضبوطی میں عالمی شخصیات کا کردار بھی نمایاں ہے۔ آیت اللہ العظمیٰ خوئیؒ اور آیت اللہ سید محمد باقر الصدرؒ نے شیخ محسن علی نجفیؒ کے اس منصوبے کی تائید کی، جس نے اسے صرف ایک مدرسہ نہیں بلکہ پاکستان میں شیعہ قیادت کی آماجگاہ بنا دیا۔

مستقبل کے لیے رہنمائی

پچاس برس مکمل ہونے کے بعد جامعۃ اہلِ البیتؑ کا چیلنج یہ ہے کہ وہ جدید تحقیق، عصری علوم، سماجی خدمات اور عالمی شراکت داری کے شعبوں میں مزید ترقی کرے، تاکہ آنے والی نسلیں بھی اسی جذبے اور بصیرت کے ساتھ علم و عمل کو آگے بڑھا سکیں۔

اختتامیہ

جامعۃ اہلِ البیتؑ آج بھی اسی فکر کی امین ہے جو اس کے بانی، شیخ محسن علی نجفیؒ نے رکھی تھی:
علم برائے کردار، تعلیم برائے قیادت، اور ادارہ برائے امت۔
یہ نصف صدی گزرنے کے باوجود ایک زندہ تحریک ہے، اور آنے والے پچاس سال میں بھی یہ فکری و علمی قیادت کا چراغ روشن رکھے گی۔