تازه خبریں

29 ویں یومِ تاسیس جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان پر علامہ سید ساجد علی نقوی کا خصوصی پیغام

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے 29 ویں یوم تاسیس پر قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے 29 ویں یوم تاسیس پر قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

29 واں یومِ تاسیس جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان

قائد ملت جعفریہ پاکستان، علامہ سید ساجد علی نقوی کا خصوصی پیغام

نوجوانی کا دور محض ایک عمر کا نام نہیں، بلکہ یہ جستجو، انقلاب اور انسانی ارتقاء کا عروج ہے۔ ایک جوان کا متحرک ذہن ہمیشہ حقائق کی تلاش میں رہتا ہے، اور یہی تڑپ اسے بہترین انسانی اقدار کے انتخاب کے قابل بناتی ہے۔ نوجوانی وہ مرحلہ ہے جہاں ذہانت اور صلاحیتیں اپنے عروجِ کامل پر ہوتی ہیں۔

پیغمبرِ خدا ﷺ نے نوجوانوں کے دلوں کی حساسیت اور اُن کے اندر موجود خیر کے جذبے کو سب سے پہلے سراہا۔ آپ ﷺ فرماتے ہیں: “اُوصِیْکُمْ بِالشَّبَّانِ خَیْراً فَاِنَّھُمْ اَرَقُّ اَفْئِدَۃً”۔
“میں تمہیں نوجوانوں کے ساتھ بھلائی کی وصیت کرتا ہوں، کیونکہ ان کے دل سب سے زیادہ نرم اور قبولِ حق کے لیے تیار ہوتے ہیں۔”

دوسری جانب، بابِ مدینۃ العلم، امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام نے اس دورِ جنوں کی قدر و قیمت پر زور دیتے ہوئے خبردار کیا: “شَیْئَانِ لَا یَعْرِفُ فَضْلَھُمَا اِلَّا مَنْ فَقَدَھُمَا: اَلشَّبَابُ وَالْعَافِیَۃُ”۔
“دو چیزیں ایسی ہیں جن کی قدر کوئی نہیں جانتا، جب تک کہ وہ اُن کو کھو نہ دے: جوانی اور عافیت۔”

آج کی تیز رفتار اور ڈیجیٹل دنیا میں جوانوں کے لیے چیلنجز پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ چکے ہیں۔ اب ذرا سی غفلت یا راہ سے بھٹک جانا ان کو زندگی کے اصل مقصد سے میلوں دُور کر سکتا ہے۔ اس لیے موجودہ دور کا تقاضا ہے کہ نوجوان اپنے ہر قدم، ہر فیصلے اور ہر نظریے پر گہری بصیرت اور باریک بینی سے غور کریں۔

دینِ اسلام محض چند رسومات کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے، جو دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں سربلندی کی ضمانت دیتا ہے، بشرطیکہ اس کے سنہری اصولوں کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لیا جائے۔

جعفریہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے غیور جوانوں کے لیے میرا یہ پیغام ہے کہ اپنی فکر کا آغاز “ذاتی اصلاح” سے کریں۔ جو جوان اپنے نفس کو فتح نہیں کر سکتا، وہ معاشرے میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکتا۔ معاشرے کی تعمیرِ نو کا راستہ ہمیشہ فرد کی اپنی ذات سے ہو کر گزرتا ہے۔

یاد رکھیں! اسلام رہتی دنیا تک بہترین نمونۂ عمل ہے اور ائمہ طاہرین علیہم السلام کے اسوۂ حسنہ کی پیروی ہی ہمیں ظلمتوں سے نکال سکتی ہے۔ آج کے جوان کے لیے لازم ہے کہ وہ جہاں دینی شعور حاصل کرے، وہیں جدید دنیاوی علوم و فنون میں بھی کمال اور مہارت حاصل کرے۔

علم کا ہر میدان، چاہے وہ سائنس ہو، ٹیکنالوجی ہو یا انسانی علوم، کامیابی کا ایک زینہ ہے۔ اگر جے ایس او کے جوان اپنے کردار کو اسلامی سانچے میں ڈھال لیں اور عصری علوم سے لیس ہو جائیں، تو وہ اس ملت اور پوری انسانیت کے لیے ایک نمونۂ عمل اور درخشندہ مثال بن سکتے ہیں۔

دعا ہے کہ مالکِ کائنات جے ایس او کے تمام نوجوانوں کو فکری بلندی، علمی کمال اور مسلسل ترقی عطا فرمائے، اور ہمیں اپنی مرضی اور رضا کے مطابق زندگی گزارنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔