6 جولائی عادلانہ نظام کے قیام اور عوامی و بنیادی حقوق کی پاسداری کا دن ہے، سنجیدہ طبقات کو کمربستہ ہونا ہوگا: علامہ سید ساجد علی نقوی
راولپنڈی / اسلام آباد، 6 جولائی 2026ء ( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا (6 جولائی 1980ء) “یوم فقہ جعفریہ” کی مناسبت سے کہنا ہے کہ مشہور مقولہ ہے “ہر کہ آمد عمارت نو ساخت”، جو بھی آیا اُس نے نئی عمارت تعمیر کی، جبکہ دنیا کی روایت، جو پاکستان میں زیادہ مروج ہے، یہ ہے کہ “جو بھی آیا وہ ایک نیا نعرہ لے کر آیا۔”
مرحوم جنرل ضیاء الحق کے دورِ حکمرانی میں جب اسلامائزیشن کا نعرہ لگایا گیا تو ہر طبقۂ فکر میں یہ تشویش پیدا ہوئی کہ کہیں کسی خاص برانڈ کا اسلام نافذ نہ ہو جائے۔ اسی تشویش کو 6 جولائی 1980ء کے پروقار، مہذب اور قانونی احتجاج نے ایک واضح جہت اور راستہ فراہم کیا۔ یہ احتجاج 12 اور 13 اپریل 1979ء کو بھکر میں ہونے والے عوامی اور پُرامن اجتماع کا تسلسل تھا۔
اس احتجاج کی سرپرستی بلند پایہ شخصیات نے کی۔ یہ عوام کی اس تشویش کو منظم انداز میں سامنے لانے کی کوشش تھی اور عوام میں شعور اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ حکمرانوں کو بھی باور کرانا مقصود تھا کہ مسلم اسکالرز، محققین، مجتہدین اور فقہاء کی علمی و تحقیقی کاوشوں سے استفادہ کرتے ہوئے، اور انہیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق تطبیق دے کر، ایسا عادلانہ نظام نافذ کیا جائے جو دنیا کے لیے ایک مثالی نمونہ بنے اور جو انتہا پسندی، فرقہ واریت، تعصب اور مسلکیت سے بالاتر ہو۔
اس کنونشن کے بعد قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ مفتی جعفر حسین مرحوم کی سربراہی میں اعلیٰ سطحی کمیٹی تشکیل دی گئی، جس میں علامہ سید گلاب علی شاہ مرحوم، علامہ سید صفدر حسین نجفی مرحوم، کرنل ریٹائرڈ سید فدا حسین مرحوم اور سید شبیر حسین ایڈووکیٹ شامل تھے۔
جنرل ضیاء الحق مرحوم سے ملاقات کے دوران ایک معاہدہ طے پایا، جس کے نتیجے میں ستمبر 1980ء میں آئین پاکستان کی دفعہ 227 میں آئینی ترمیم کے ذریعے ایک توجیہہ کا اضافہ کیا گیا، تاہم اس معاہدے پر مکمل عمل درآمد ہونا ابھی باقی ہے۔
انہوں نے کہا کہ 6 جولائی کا دن عادلانہ نظام کے قیام اور عوام کے اُن جائز حقوق کے حصول کا دن ہے جو آئین نے تمام مکاتب فکر کو دیے ہیں۔ یہ دن وحدتِ امت کے لیے ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے مزید کہا کہ ملک کے تمام مکاتب فکر اور مختلف نقطۂ نظر رکھنے والوں کے حقوق کا مکمل خیال نہیں رکھا جا رہا، جبکہ پُرامن صدائے احتجاج کو بھی روکنے کے لیے منفی انداز اختیار کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آج کا دن یومِ تجدیدِ عہد ہے کہ عوام کے ساتھ ساتھ معاشرے کے سنجیدہ طبقات بھی نئے حوصلے اور نئے جذبے کے ساتھ اپنے حقوق کی جدوجہد کو مزید تیز کریں اور پاکستان کو حقیقی معنوں میں اسلامی، فلاحی اور جمہوری ریاست بنانے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔