ترکی میں پارلیمنٹ نے ایک آئینی ترمیمی بل کے مسودے کی منظوری دی ہےجس کے تحت وزارت عظمیٰ کا منصب ختم کردیا گیا ہے اور تمام تر انتظامی اختیارات صدر مملکت کو سونپ دیئے گئے ہیں جو بیک وقت ریاست اور حکومت کے سربراہ ہوں گے۔ اٹھارہ نکاتی ترمیمی بل کی ارکان پارلیمنٹ نے بھاری اکثریت سے منظوری دی ۔ بل کی حمایت میں تین سوانتالیس جبکہ مخالفت میں ایک سو بیالیس ووٹ ڈالے گئے۔نئے آئین پر ماہ اپریل میں ریفرنڈم کرایا جائیگا جس کے بعد نیا آئین نافذالعمل ہو جائے گا۔نئے نظام کی رو سےترک صدر اپنے نائبین اور وزرا ءکی تعیناتی اور بر طرفی کے اہل ہوں گے، انتظامی امور سے متعلق امور میں قرار داد جاری کر سکیں گے اور ہنگامی حالت کا اعلان کر سکیں گے۔تا ہم اس صورت میں پارلیمنٹ کا عمل دخل زیادہ ہو گا۔ترک پارلیمنٹ کے فیصلے کے ساتھ ہنگامی حالت کے نفاذ کو ختم کیا جا سکے گا۔ہر پانچ سال بعد پارلیمانی و صدارتی انتخابات بیک وقت منعقد کیے جائینگے۔آئین کے حوالے سے ڈسپلن عدالتوں کے علاوہ فوجی عدالتیں کالعدم قرار دے دی گئی ہیں اور اعلیٰ فوجی عدالتوں کو بند کر دیا جائیگا۔بجٹ اور قطعی حساب و کتاب قوانین کو صدر،، قومی اسمبلی میں پیش کرے گا۔