تازه خبریں

یہ ملت جھکنے والی نہیں دشمن کو سزا دیتے رہینگے رہبر انقلاب اسلامی

رہبرِ انقلاب اسلامی کا خطاب: ایران کی بدامنیوں کا ذمہ دار امریکہ قرار

رہبرِ انقلاب اسلامی کا دوٹوک مؤقف

رہبرِ انقلاب اسلامی آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اپنے تازہ خطاب میں ایران میں حالیہ دنوں پیش آنے والے بلووں اور بدامنیوں کو ایک منظم امریکی سازش قرار دیتے ہوئے امریکہ اور بالخصوص امریکی صدر کو ان واقعات کا اصل مجرم ٹھہرایا ہے۔ رہبرِ انقلاب کے اس خطاب کو مغربی اور یورپی میڈیا میں غیر معمولی اہمیت دی جا رہی ہے۔

رہبرِ انقلاب اسلامی نے خطاب کے دوران واضح کیا کہ حالیہ فسادات محض داخلی مسائل یا عوامی مطالبات کا نتیجہ نہیں تھے بلکہ یہ ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کرائے گئے، جن کا مقصد ایران کے امن، استحکام اور اسلامی نظام کو نقصان پہنچانا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اس فتنے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ تھی کہ امریکی صدر خود اس معاملے میں داخل ہوئے اور ایران کے اندر بدامنی کو ہوا دینے میں براہِ راست کردار ادا کیا۔

آیت اللہ خامنہ ای نے کہا کہ ایران کو جانی و مالی نقصان پہنچانے، عوام پر دباؤ ڈالنے اور عالمی سطح پر ایران کے خلاف منفی پروپیگنڈا کرنے کی ذمہ داری امریکہ پر عائد ہوتی ہے۔ انہوں نے ایرانی قوم کو دشمن کی سازشوں کو پہچاننے، ہوشیار رہنے اور اتحاد و بیداری کا مظاہرہ کرنے کی تلقین کی۔

رہبرِ انقلاب اسلامی نے اس موقع پر واضح کیا کہ ایران کسی جنگ کا خواہاں نہیں، تاہم ملک کی خودمختاری، سلامتی اور عوامی امن کو نقصان پہنچانے والوں کے ساتھ کسی قسم کی نرمی نہیں برتی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ فتنہ پرور عناصر، خواہ وہ اندرونی ہوں یا بیرونی طاقتوں کی پشت پناہی کے حامل، قانون کے مطابق اپنے انجام تک پہنچیں گے۔

رہبرِ انقلاب کے اس خطاب پر عالمی خبر رساں اداروں نے خصوصی توجہ دی ہے۔ برطانوی خبر رساں ادارے روئیٹرز نے امریکی صدر کو ’’مجرم‘‘ قرار دیے جانے کو اپنی سرخی بنایا، جبکہ فرانس 24 سمیت دیگر یورپی میڈیا اداروں نے بھی واشنگٹن کو ایران میں بدامنیوں کا ذمہ دار ٹھہرانے کے بیان کو نمایاں طور پر شائع کیا ہے۔

سیاسی مبصرین کے مطابق رہبرِ انقلاب اسلامی کا یہ خطاب نہ صرف ایران کے داخلی بیانیے کو مضبوط کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں پر ایک واضح اور دوٹوک پیغام بھی ہے، جس کے اثرات خطے اور بین الاقوامی سیاست میں محسوس کیے جا سکتے ہیں۔