تازه خبریں

شہید علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کی 21ویں برسی پر قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

شہید علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کی 21 ویں برسی پر قائد ملت جعفریہ پاکستان کا پیغام

جعفریہ پریس پاکستان : قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کا شہید علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کی 21ویں برسی پر خصوصی پیغام، گلگت بلتستان کے آئینی و تعلیمی حقوق پر جدوجہد کو خراجِ تحسین۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے ممتاز، معروف اور متحرک مذہبی و سماجی شخصیت شہید علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کی 21ویں برسی کے موقع پر کہا ہے کہ گلگت بلتستان کا خطہ کئی حوالوں سے منفرد حیثیت کا حامل ہے، تاہم اس کا معتبر اور مستند حوالہ وہاں کے باشعور اور محب وطن عوام کا دین و دانش سے والہانہ تعلق اور علم دوست طبقات سے گہری عقیدت و وابستگی ہے، جس کے لئے علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کی ملّی جدوجہد اور کوششوں کو فراموش نہیں کیا جاسکتا۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ درپیش مسائل پر شہید ضیاء الدین رضویؒ کا مؤثر اور جاندار کردار واضح ہے، تاہم گلگت بلتستان کے عوام کے معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی حقوق کیلئے ان کی بھرپور جدوجہد آج بھی مشعلِ راہ ہے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ملی پلیٹ فارم کے ذریعہ گلگت بلتستان کے آئینی حقوق کی جدوجہد کو آگے بڑھانا شہید آغا ضیاء الدین رضویؒ کا بنیادی مشن تھا، کیونکہ ملی پلیٹ فارم کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ روزِ اول سے ہی اس نے پسماندہ اور محروم علاقوں کے آئینی حقوق کیلئے آواز بلند کی۔

انہوں نے کہا کہ جماعت کے ہر اہم اجتماع اور اجلاس کے ایجنڈے پر گلگت بلتستان کی آئینی حیثیت کے تعین اور عوام کی محرومی و پسماندگی کے خاتمے کو سرفہرست رکھا گیا، جس کے نتیجے میں اس مسلسل جدوجہد نے حکومتوں کو آواز پر کان دھرنے پر مجبور کیا اور تعمیر و ترقی کے حوالے سے ایک حد تک پیش رفت ممکن ہوئی، تاہم مکمل حقوق کے حصول کیلئے ابھی مزید جدوجہد ناگزیر ہے۔

علامہ سید ساجد علی نقوی نے اس امر پر بھی زور دیا کہ گلگت بلتستان میں نصابِ تعلیم جیسے اہم اور حساس معاملے پر شہید علامہ سید ضیاء الدین رضویؒ کی مثبت اور دور رس کاوشیں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی اور اس جدوجہد کو مستقبل میں بھی پوری قوت کے ساتھ آگے بڑھایا جائے گا۔

آخر میں انہوں نے شہید رضویؒ کی ملی، مذہبی اور سماجی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ان کے درجات کی بلندی کیلئے دعا کی اور ان کی زندگی سے سبق حاصل کرنے کی تلقین کی۔