آغا شہید سید ضیاءالدین رضویؒ کی مجاہدانہ، علمی اور سیاسی زندگی
آغا شہید سید ضیاءالدین رضویؒ گلگت کے قدیم علاقے امپھری کے ایک معزز، علمی اور روحانی سادات گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد گرامی خود ایک متقی، پرہیزگار اور باعمل عالمِ دین تھے، جن کی نگرانی میں آغا شہیدؒ نے کم عمری ہی میں دینی تعلیم و تربیت کا آغاز کیا۔ گھر کا علمی و روحانی ماحول آپ کی شخصیت کی تشکیل میں بنیادی کردار ادا کرتا رہا۔ ابتدا ہی سے تقویٰ، علم دوستی، حق گوئی، جرات اور اصول پسندی آپ کے نمایاں اوصاف تھے۔
آپ نے ابتدائی عصری تعلیم بوائز ہائی اسکول گلگت سے حاصل کی، جہاں آپ ایک محنتی، دیانت دار، عبادت گزار اور غیر معمولی صلاحیتوں کے حامل طالب علم کے طور پر پہچانے جاتے تھے۔ میٹرک کے بعد آپ نے باقاعدہ دینی تعلیم کے لیے پاکستان کی ممتاز دینی درسگاہ جامعہ المنتظر، لاہور میں داخلہ لیا۔
جامعہ المنتظر لاہور میں آپ نے جلیل القدر علماء و اساتذہ سے کسبِ فیض کیا، جن میں علامہ سید صفدر حسین نجفی، علامہ حافظ ریاض حسین نجفی، شیخ محمد شفیع نجفی، شیخ موسیٰ بیگ نجفی اور شیخ غلام حسین نجفی شامل ہیں۔ ان اساتذہ کی علمی، فقہی اور فکری تربیت نے آپ کو نہ صرف گہری دینی بصیرت عطا کی بلکہ قیادت، استقامت اور اجتماعی ذمہ داری کا شعور بھی بخشا۔
اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے آپ ایران کے مقدس شہر قم المقدس تشریف لے گئے، جہاں حوزۂ علمیہ قم میں معروف علماء اور مجتہدینِ عظام کے دروس سے بھرپور استفادہ کیا۔ بعد ازاں اپنے استاد علامہ سید صفدر حسین نجفی کی سرپرستی میں لندن میں قائم جامعہ المنتظر کے پرنسپل مقرر ہوئے، جہاں آپ نے یورپ میں مقیم مسلمانوں، بالخصوص نوجوان نسل، کی دینی و فکری تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔
سیاسی و عوامی جدوجہد
انیس سو نوّے (1990ء) میں گلگت بلتستان میں پیش آنے والے افسوسناک فرقہ وارانہ واقعات اور شیعہ آبادیوں پر ہونے والی مسلح لشکر کشی کے دوران آغا شہید سید ضیاءالدین رضویؒ گلگت میں موجود نہیں تھے، مگر ملت پر ٹوٹنے والے مظالم اور بدلتے حالات نے انہیں لندن میں خاموش رہنے نہ دیا۔ چنانچہ آپ نے ایک پُرسکون اور محفوظ زندگی کو ترک کر کے گلگت واپسی کا فیصلہ کیا اور ملتِ تشیع کی عملی قیادت سنبھالی۔
انیس سو اکانوے (1991ء) میں غیر جمہوری انداز میں قائم کی جانے والی گلگت بلتستان کونسل کے خلاف آغا شہیدؒ نے ایک منظم، شعوری اور عوامی احتجاجی تحریک کی قیادت کی۔ یہ جدوجہد وقتی ردِعمل نہیں بلکہ آئینی حقوق، عوامی نمائندگی اور سیاسی انصاف کے لیے ایک مسلسل تحریک تھی۔ عوامی دباؤ اور قربانیوں کے نتیجے میں بالآخر انیس سو ترانوے (1993ء) میں وہ کونسل تحلیل ہونے پر مجبور ہوئی، جو گلگت بلتستان کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔
انیس سو چورانوے (1994ء) کے انتخابات میں آغا شہید سید ضیاءالدین رضویؒ نے تحریک جعفریہ پاکستان کی قیادت کرتے ہوئے انتخابی سیاست میں بھرپور حصہ لیا۔ تحریک جعفریہ نے آٹھ نشستیں حاصل کر کے خود کو گلگت بلتستان کی ایک مؤثر اور عوامی سیاسی قوت کے طور پر منوایا۔ بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ اتحاد کے ذریعے حکومت قائم کی گئی۔
انیس سو ننانوے (1999ء) کے انتخابات میں واضح اکثریت حاصل ہونے کے بعد گلگت بلتستان میں تحریک جعفریہ پاکستان کی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔ یہ حکومت محروم اور مظلوم طبقات کی امنگوں، عوامی حقوق اور سیاسی خودمختاری کی ترجمان سمجھی جاتی تھی۔
آمریت کے خلاف مزاحمت اور قربانی
جنرل پرویز مشرف کے دورِ آمریت میں قومی مذہبی و سیاسی جماعت تحریک جعفریہ پاکستان پر پابندی عائد کر دی گئی اور قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کو بے بنیاد مقدمات میں گرفتار کیا گیا۔ ایسے نازک حالات میں آغا شہید سید ضیاءالدین رضویؒ نے نہ صرف قائد ملت جعفریہ کی رہائی کے لیے بھرپور تحریک چلائی بلکہ آمریت، غیر آئینی اقدامات، تحریک جعفریہ کو کالعدم قرار دینے اور ملک میں رائج متعصبانہ نصابِ تعلیم کے خلاف بھی واضح اور جرات مندانہ مؤقف اختیار کیا۔
اس راہِ حق میں آپ نے قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں، مسلسل دھمکیاں سہیں اور شدید دباؤ کا سامنا کیا، مگر اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہ کیا۔ جب جبر و طاقت کے ذریعے اس آواز کو خاموش نہ کرایا جا سکا تو آخرکار اسے ہمیشہ کے لیے دبانے کا فیصلہ کیا گیا۔
قاتلانہ حملہ اور شہادت
آٹھ جنوری 2005ء کو آغا شہید سید ضیاءالدین رضویؒ پر ایک وحشیانہ قاتلانہ حملہ کیا گیا، جس میں آپ شدید زخمی ہوئے جبکہ آپ کے دو محافظ موقع پر ہی شہید ہو گئے۔ طویل علاج، صبر آزما تکالیف اور مسلسل جدوجہد کے بعد بالآخر تیرہ اکتوبر کو آپ نے جامِ شہادت نوش کیا اور یوں علم، حق اور مزاحمت کی اس عظیم جدوجہد پر مہرِ شہادت ثبت ہو گئی۔
آغا شہید سید ضیاءالدین رضویؒ کی زندگی علم، عمل، سیاست، مزاحمت اور قربانی کا حسین امتزاج تھی۔ آپ مظلوموں کی آواز، حق کے علمبردار اور گلگت بلتستان کی سیاسی و دینی تاریخ کا ایک روشن باب ہیں۔ آپ کا نام ہمیشہ عزت، جرات، اصول پسندی اور شہادت کے ساتھ یاد رکھا جائے گا۔