متحدہ عرب امارات سے پاکستانی ورکرز کو نوکریوں سے فارغ کرنے اور بے دخل کیے جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ متعلقہ حکام سے اس معاملے پر فوری نوٹس لینے اور مؤثر اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق ملک کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی ورکرز کی وطن واپسی کے واقعات سامنے آ رہے ہیں، جس نے اوورسیز پاکستانیوں اور ان کے اہل خانہ میں بے چینی پیدا کر دی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک خصوصاً متحدہ عرب امارات میں پاکستانی ورکرز نے مختلف شعبوں میں نمایاں خدمات انجام دی ہیں اور ترقیاتی عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ایسے میں مخصوص بنیادوں پر بے دخلی کے اقدامات نہ صرف تشویشناک ہیں بلکہ سفارتی ضوابط اور لیبر قوانین کے تناظر میں بھی توجہ طلب ہیں۔
حکام سے مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ وہ اس معاملے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے فوری سفارتی سطح پر اقدامات کریں تاکہ پاکستانی ورکرز کے حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو اس کے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کا اعتماد بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔