تازه خبریں

شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صدر علامہ حمید حسین امامی نے پاراچنار کی طور ی مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت

شیعہ علماء کونسل خیبر پختونخوا کے صدر علامہ حمید حسین امامی نے پاراچنار کی طور ی مارکیٹ میں یکے بعد دیگرے ہونے والے دھماکوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ سکیورٹی کے نام پر پورے پارا چنار کو ایک جانب تو انتظامیہ نے ریڈ زون میں تبدیل کیا ہوا ہے ۔شہری امن کی خاطر پیدل آنے جانے پر مجبور ہیں، دوسری جانب انہی شہریوں کو دن دہاڑے بم بارود سے نشانہ بنایا جارہا ہے ۔ یہ امر انتہائی تشویش ناک کہ ایک ایسا علاقہ جو مکمل طور پر سکیورٹی اداروں کی کڑی نگرانی میں ہے اور ان اداروں کی نظروں میں آئے بغیر پرندہ بھی پر نہیں مارتا ، ایسے علاقے میں تسلسل کے ساتھ دہشت گردانہ حملے اداروں اور انتظامیہ کی کارکردگی اور کردار پر سوالیہ نشان ہیں۔ علامہ حمید حسین امامی نے گورنر خیبر پختونخوا سے سوال کیا ہے کہ پارا چنار پورے فاٹا میں شیعہ آبادی رکھنے والا واحد علاقہ ہے ، یہاں کے شہریوں نے ہمیشہ ہی سکیورٹی اداروں اور انتظامیہ سے بھرپور تعاون کیا ہے اور یہ فاٹا کا اکلوتا علاقہ ہے کہ جہاں کبھی بھی سکیورٹی اداروں کو مزاحمت کا سامنا نہیں رہا، اس کے باوجود پارا چنار کے شہریوں کو بار بار دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے۔ ؟ علامہ حمید حسین امامی نے کہا ہے کہ تاحال نجی و سرکاری میڈیا نے ان بم دھماکوں میں شہادتوں اور زخمیوں کے جو اعداد وشمار بتائے ہیں، جانی و مالی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہوا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان دھماکوں میں اب تک پچاس سے زائد بے گناہ شہری شہید اور 85سے زائد زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت نازک ہے۔ علامہ حمید حسین امامی نے مزید کہا ہے کہ پارا چنار کے شہریوں کو محض اس بات کی سزا دی جارہی ہے کہ وہ امن پسند تشیع شہری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ اور اداروں نے پاراچنار کے شہریوں کا درد محسوس کرکے صورت حال میں بہتری کیلئے مثبت اقدام نہیں لیئے تو حالات پر قابو رکھنا خود حکومت اور انتظامیہ کیلئے مشکل ہوجائیگا۔