قومی سلامتی جیسے امور پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کیا جائے ، شیعہ علماءکو نسل
آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت صحافیوں کے تحفظ کےلئے اقدامات اٹھائے، علامہ عارف حسین واحدی
مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندیاں قابل مذمت، حکومت معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے، مرکزی سیکرٹری جنرل
اسلام آباد/راولپنڈی 02مئی 2017ء( )شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ پاکستان کو بے شمار اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، قومی سلامتی جیسے امور پر سیاست بازی یا سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کیا جائے، ہم آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں ، حکومت صحافیوں کے تحفظ کےلئے اقدامات اٹھائے، مقبوضہ کشمیر میں جہاں عوام پر ظلم و تشدد کا بازار گرم ہے وہیں اب صحافیوں کی پیشہ وارانہ پابندیوں کے بعد سوشل میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کردی گئیں جو تشویشناک ، معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوںنے مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل پاکستان سے مرکزی دفتر میں ملاقات کی۔ علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بے شمار اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامناہے، ان حالات میں حکمرانوں اور سیاستدانوں برد باری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، انہوںنے کہاکہ افسوس قومی سلامتی جیسے امور بھی سیاست کی نذر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسے امور پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ نان ایشوز کی بجائے اُن مسائل کو اجاگر کریں جو براہ راست عوام سے متعلق ہیں، عوام کا سب سے بڑا مسئلہ امن وامان، صحت کی سہولیات کا فقدان ، مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ ہے، افسوس اس جانب نہ تو حکمران وعدوں کے باوجود توجہ دے رہے ہیں نہ ہی سیاستدانوں کی ترجیحات میں یہ مسائل شامل ہیں جوکہ افسوسناک ہے۔
عالمی یوم صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل پاکستان علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ ہم آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ صحافی کسی بھی معاشرے کے آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں ، جمہوری معاشروں کی مضبوطی آزادی اظہار سے منسلک ہوتی ہے ، پاکستان میں اس وقت صحافیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے ، حکومت صحافیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے۔ اس موقع پر انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر لگنے والی پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے عوام پر ظلم و تشدد کا بازار گرم ہے، پہلے صحافیوں کی پیشہ وارانہ سرگرمیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئیں لیکن اب سوشل میڈیا پر بھی پابندی لگادی گئی ہے جوکہ انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوںنے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔
آزادی صحافت کے حامی ہیں، حکومت صحافیوں کے تحفظ کےلئے اقدامات اٹھائے، علامہ عارف حسین واحدی
مقبوضہ کشمیر میں سوشل میڈیا پر پابندیاں قابل مذمت، حکومت معاملہ عالمی سطح پر اٹھائے، مرکزی سیکرٹری جنرل
اسلام آباد/راولپنڈی 02مئی 2017ء( )شیعہ علماءکونسل پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی نے کہاہے کہ پاکستان کو بے شمار اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامنا ہے، قومی سلامتی جیسے امور پر سیاست بازی یا سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کیا جائے، ہم آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں ، حکومت صحافیوں کے تحفظ کےلئے اقدامات اٹھائے، مقبوضہ کشمیر میں جہاں عوام پر ظلم و تشدد کا بازار گرم ہے وہیں اب صحافیوں کی پیشہ وارانہ پابندیوں کے بعد سوشل میڈیا پر بھی پابندیاں عائد کردی گئیں جو تشویشناک ، معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔
ان خیالات کا اظہار انہوںنے مختلف وفود سے گفتگو کرتے ہوئے کیا جنہوںنے مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل پاکستان سے مرکزی دفتر میں ملاقات کی۔ علامہ عارف حسین واحدی کا کہنا تھا کہ پاکستان کو بے شمار اندرونی و بیرونی چیلنجز کا سامناہے، ان حالات میں حکمرانوں اور سیاستدانوں برد باری اور تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے، انہوںنے کہاکہ افسوس قومی سلامتی جیسے امور بھی سیاست کی نذر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے، ایسے امور پر سیاسی پوائنٹ سکورننگ سے گریز کیا جائے۔انہوںنے کہاکہ سیاستدانوں کو چاہیے کہ وہ نان ایشوز کی بجائے اُن مسائل کو اجاگر کریں جو براہ راست عوام سے متعلق ہیں، عوام کا سب سے بڑا مسئلہ امن وامان، صحت کی سہولیات کا فقدان ، مہنگائی، بے روزگاری اور لوڈشیڈنگ ہے، افسوس اس جانب نہ تو حکمران وعدوں کے باوجود توجہ دے رہے ہیں نہ ہی سیاستدانوں کی ترجیحات میں یہ مسائل شامل ہیں جوکہ افسوسناک ہے۔
عالمی یوم صحافت کے موقع پر اپنے پیغام میں مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماءکونسل پاکستان علامہ عارف حسین واحدی نے کہاکہ ہم آزادی صحافت پر یقین رکھتے ہیں کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ صحافی کسی بھی معاشرے کے آنکھ اور کان کی حیثیت رکھتے ہیں ، جمہوری معاشروں کی مضبوطی آزادی اظہار سے منسلک ہوتی ہے ، پاکستان میں اس وقت صحافیوں کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے ، حکومت صحافیوں کے تحفظ کیلئے اقدامات اٹھائے۔ اس موقع پر انہوں نے مقبوضہ کشمیر میں حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر لگنے والی پابندیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہاکہ مقبوضہ کشمیر میں کئی دہائیوں سے عوام پر ظلم و تشدد کا بازار گرم ہے، پہلے صحافیوں کی پیشہ وارانہ سرگرمیوں پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کی گئیں لیکن اب سوشل میڈیا پر بھی پابندی لگادی گئی ہے جوکہ انتہائی تشویشناک ہے۔ انہوںنے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کو عالمی سطح پر اجاگر کیا جائے۔