برسی عظمت اسلام کانفرنس25 نومبر 1994 مینار پاکستان

راولپنڈی/ اسلام آباد24 نومبر 2020 ء(  جعفریہ پریس پاکستان ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے25نومبر1994ءکو مینار پاکستان لاہور میں منعقدہ شہدائے عظمت اسلام کانفرنس کی 26 ویں برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہر ذی شعور اور محب وطن پاکستانی اس امر سے بخوبی آگاہ ہے کہ وطن عزیزپاکستان جس اساس اور نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آیا اس کے مطابق ایک ایسی اسلامی اور فلاحی مملکت کا قیام مقصود تھا جہاں پر تمام مکاتب اور مسالک کے پیروکار آزادی و امن و سکون کی خوشگوار فضا میں سانس لیتے ہوئے اپنے عقیدے ‘ تعلیمات اور نظریے کے مطابق زندگیاں بسر کرسکیں گے مگر بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا ۔ انہوں نے مزید کہا کہ شاہ اللہ دتہ اسلام آبادسے تعلق رکھنے والے عظمت اسلام کانفرنس کے شرکاءکو محض اس خاطر گولیوں کا نشانہ بنایا گیا کہ وہ ملک میں تہذیب و شائستگی ‘ امن و اخوت ‘ بھائی چارے اور رواداری کی فضا قائم کرنے کے خواہاں تھے یہی نہیں بلکہ تحریک پاکستان سے لے کر تشکیل پاکستان تک کے تمام تر مراحل میں جن محبت وطن عوام نے لہو رنگ جدوجہد کے ذریعہ اپنے جان و مال کی قربانیاں دے کر مصور پاکستان ڈاکٹر علامہ محمد اقبال اور بانی پاکستان ‘ بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے خوابوں اور انتھک کوششوں کو تکمیل تک پہنچایا اسی پاک سرزمین میں چشم فلک نے یہ مناظر بھی دیکھے کہ تعصب و تنگ نظری کی بنیاد پر انتہا پسندی ،فرقہ وایت ، غلیظ نعروں و فتوﺅں کو ہوا دے کر لاقانونیت و قتل و غارتگری کا پرچار کرکے اس ملک کے امن و وحدت کو تہ و بالا کیاگیا عالم مسافرت میں بسوں سے اتار کر شناخت کرکے معصوموں کے گلے کاٹے گئے ، نمازیوں اور عزاداروں کوانکے خون میں نہلایا گیا اور تسلسل کے ساتھ محب وطن‘ معصوم اور بے ضرر عوام کو نشانہ بنایا گیا تو کبھی مذہبی حقوق اور شہری آزادیوں کو سلب کرنے کے ناپاک حربے استعمال ہوئے۔ علامہ ساجد نقوی نے شہدائے عظمت اسلام کانفرنس کی قربانیوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے شہداءکی کے درجات کی بلندی کے لئے دعا کی

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here