اسلامی تحریک پاکستان کی جانب سے اے این پی کے رہنماء ہارون بلور کی شہادت کی مذمت
اسلامی تحریک پاکستان کی جانب سے اے این پی کے رہنماء ہارون بلور کی شہادت کی مذمت

اسلامی تحریک پاکستان کی جانب سے اے این پی کے رہنماء ہارون بلور کی شہادت کی مذمت

دہشت گردی کا یہ المناک واقعہ ملک کی پرامن فضاء کو ثبوثاز کرنے کی مذموم سازش ہے۔ مرکزی سیکرٹری جنرل علامہ عارف حسین واحدی عوامی تحفظ کیلئے حکومت کو دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں نمٹنا ہو گا۔ علامہ عارف حسین واحدی

پشاور میں عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی کارنر میٹنگ کے دوران خودکش حملے کے نتیجے میں پارٹی رہنما اور بشیر بلور کے بیٹے ہارون بلور سمیت 13 افراد شہید ہوگئے ہیں۔

پولیس کے مطابق خودکش حملہ پشاور کے علاقے یکہ توت میں اس وقت ہوا جب ہارون بلور کارنر میٹنگ میں داخل ہوئے اور اسٹیج کی طرف جارہے تھے کہ خودکش حملہ آور نے انہیں نشانہ بنایا۔

پی کے 78 سے اے این پی کے امیدوار ہارون بلور کے اہلخانہ نے ان کی شہادت کی تصدیق کردی ہے۔

’دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی استعمال کیا گیا‘

سی سی پی او پشاور قاضی جمیل نے کہا کہ واقعہ 11 بجے کے قریب پیش آیا جس میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔

قاضی جمیل نے بم ڈسپوزل یونٹ کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دھماکے میں 8 کلو ٹی این ٹی کا استعمال کیا گیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہارون بلور کی سیکیورٹی پر دو پولیس اہلکار مامور تھے۔

اے آئی جی بم ڈسپوزل شفقت ملک نے خودکش حملے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس میں اچھے معیار کا دھماکا خیز مواد استعمال کیا گیا تھا۔

پولیس کے مطابق خود کش حملہ آور کارنر میٹنگ میں پہلے سے موجود تھا اور اس نے دھماکا اس وقت کیا جب ہارون بلور کی آمد پر آتش بازی کی جا رہی تھی۔

ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال ذوالفقار علی بابا خیل نے بتایا کہ ہارون بلور کے بیٹے دانیال بلور محفوظ ہیں۔

خیال رہے کہ ہارون بلور بشیر بلور کے بیٹے تھے جو 22 دسمبر 2012 کو ایک خودکش حملے کے دوران شہید ہوگئے تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here