تازه خبریں

اسلامی تحریک پنجاب کا اجلاس، محاذ آرائی پر تشویش کا اظہار، گرفتاریوں کی مذمت

اسلامی تحریک پنجاب  کا اجلاس، محاذ آرائی پر تشویش کا اظہار، گرفتاریوں کی مذمت
سنجیدہ سیاسی حلقے جمہوری نظام کے بارے میں فکر مند ہیں، صبر وتحمل کا مظاہرہ کیا جائے،
پارلیمنٹ کی بجائے سڑکوں پر فیصلے کرنے کی روایت خطرے کا باعث ہوگی
ملتان (جعفریہ پریس ) اسلامی تحریک پاکستان صوبہ پنجاب کے صدر علامہ سید سبطین حیدر سبزواری نے کہا ہے کہ طاقت کے استعمال سے انارکی پیدا ہوگی، حکومت اوراپوزیشن کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ ملک کسی قسم کی محاذ آرائی کا متحمل نہیں ہوسکتا۔ پارلیمنٹ کی موجودگی میں سڑکوں پر فیصلے کرنے کی روایت جمہوری نظام کے لئے خطرے کا باعث ہوگی۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے   اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔جس میںمولانا مشتاق ہمدانی،مولانا موسیٰ رضا جسکانی، مولانا اشتیاق کاظمی،میاں فرزند علی چھچھر، مولانا یعقوب رضا حیدری ،بشارت عباس قریشی، پروفیسر ذوالفقار حیدر اور دیگر رہنما موجود تھے۔اجلا س میں سیاسی کارکنوں کی گرفتاریوں، پولیس تشدد اور کنٹینرز لگا کر عوام کے راستے بند کرنے کی شدید مذمت کی گئی ۔ علامہ سبطین سبزواری نے کہا کہ پارلیمنٹ کو مضبوط کرنے سے اختلافی مسائل حل اور جمہوری نظام مضبوط ہوگا۔ پانامہ لیکس پر تمام مذہنی سیاسی اور سماجی حلقوں کا اتفاق ہے کہ حکومت اپوزیشن کے مطالبات کے مطابق ٹی او آرز تسلیم کرلیتی تو کسی سیاسی جماعت کو احتجاجی کی کال دینے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ مگر حکمرانوں کو اقتدار کا نشہ اور خوشامدی درباریوں کی طرف سے سب اچھا ہے کی رپورٹ عوام اور ریاست کے بارے میں سوچنے کا موقع نہیں دیتی۔میاں نواز شریف کو جن پیاروں نے 1999ءمیں مشکل میں ڈالا تھا ، آج بھی وہی ان کے مشیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام کو خطرہ اپوزیشن کی ایک جماعت اور حکمرانوں کے رویوں سے ہے۔ فوج نے جنر ل راحیل شریف کی قیادت میں پروفیشنل ہونے کا ثبوت دیا ہے۔ حالانکہ حکومت کی طرف سے عسکری اداروںکو بدنام کرنے کے تمام حربے استعمال کئے گئے۔ اور انگریزی اخبار کی سٹوری کی اب وضاحتیں کی جارہی ہیں ، جبکہ قربانی کا بکرا بھی وزیر اطلاعات کی شکل میں تلاش کرلیا گیا ہے۔ اور حکومت کی کوشش ہوگی کہ موجودہ چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کی مدت ملازمت میں کم از کم اس کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے نہ آسکے۔ اور معاملا ت کو نئے چیف آف آرمی سٹاف کے آنے تک تعطل کا شکار رکھا جائے۔اسلامی تحریک کے رہنما کا کہنا تھاکہ سپریم کورٹ نے پانامہ لیکس پر تاریخ سماعت بھی دے دی ہے، تو اس کے فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے تھا، سنجیدہ سیاسی حلقے حکومت اور اپوزیشن کی ایک جماعت کے رویے سے نالاں اور جمہوری نظام کے بارے میں فکر مند ہیں، کیونکہ بوٹوں والے آتے حالات کے تحت اور جاتے پھر اپنی مرضی سے ہیں۔ اس لئے صبر و تحمل بہت ضروری ہے۔