اسلام آباد:وزارت مذھبی امور میں محرم الحرام میں امن و امان،بین المسالک ھماھنگی اور رواداری کے حوالے سے اھم میٹنگ منعقد ھوئی جس کی صدارت وفاقی وزیر مذھبی امور سردار محمد یوسف نے کی خصوصی طور پر مشیر قومی سلامتی جناب جنرل(ر) ناصر خان جنجوعہ نے کی،سیکریٹری مذھبی امور اوراھم ذمہ داران اور متعلقہ افسران،مختلف مکاتف فکر کے اھم علمائ کرام نے شرکت کی،علامہ عارف حسین واحدی نے بھی شرکت کی،میٹنگ بہت اچھے ماحول میں ھوئی محرم کے حوالے سے تمام امور کا مفصل جائزہ لیا گیا،محرم میں اتحاد و رواداری اور شہدائ کربلا کے بارے میں تمام شرکا نے اپنے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ھوئے کہا کہ کربلا والوں کا راستہ اور مشن مقدس ھے اس سے کسی کو اختلاف نہیں ان ھستیوں کے مشن کو مل کر جاری رکھیں گے۔
علامہ عارف حسین واحدی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نواسہ رسول امام حسین ع نے اپنی عظیم قربانی سے ھمیں یہ درس دیا ھے کہ اسلام اتنا قیمتی سرمایہ ھے کہ اس کے لئے پورا خاندان رسالت خود کو قربانی کے لئے پیش کر سکتا ھے آج کے دور میں اسلام اور وطن عزیز پاکستان کے لئے آج کے دور کی یزیدی طاقتوں کی طرف سے جو مشکلات پیدا کی جا رھی ھیں ان سے اچھے انداز میں عہدہ برآ ھونے کے لئے اسوہ حسینی کو اپنانا ضروری ھے۔
انھوں نے شہدائ کربلا کے مقصد کی طرف اشارہ کرتے ھوئے کہا کہ فقط ایک ھی مقصد کے لئے یہ قربانی دی گئی کہ یزیدیت کے منحوس اور خونی پنجوں سے اسلام کو محفوظ رکھا جائے اور دین مصطفی کی اپنے خون سے ایسی آبیاری کی کہ یزیدیت ھمیشہ کے لئے مردہ باد ھو گئی اور اسلام زندہ باد ھوگیا۔ھم آج مختلف فرقوں میں بٹے ھوئے ھیں امام حسین ع نے مدینہ سے مکہ اور مکہ سے کربلا تک جتنے خطبات ارشاد فرمائے کہیں فرقہ،مسلک،قومیت،علاقائیت اور لسانیت کی بات نہیں بلکہ صرف اسلام کے احیا اور عظمت کی بات کی بلکہ پیغمبر اسلام،اھلبیت اطہار اور صحابہ کرام نے بھی خالص اسلام کی بات کی ھے ھم سب کا بھی فرض ھے کہ کربلا والوں کی سنت اور کردار پر چلتے ھوئے اپنی تمام تر توانائیاں اسلام و مسلمین کی خدمت کے لئے وقف کر دیں،امام عالیمقام کا ایک جملہ مشعل راہ بنائیں کہ(بل خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی محمد المصفی) میں اپنے نانا مصطفی کی امت کی اصلاح کے لئے نکل رھا ھون۔
علامہ واحدی نے کہا کہ پس امام حسین کسی ایک مسلک کا نہیں بلکہ پوری امت اور انسانیت کا سرمایہ اور محسن ھے محرم میں ھر مسلک کے لوگ نواسہ رسول کی یاد اپنے انداز میں مناتے ھیں ھم بھی اس کو عبادت سمجھ کر مناتے ھے اس عظیم ایونٹ کو اچھے اور پر وقار انداز میں منانے پر جو جو تعاون کرتے ھیں ھم ان کے شکر گذار ھیں،فقط گذارش یہ ھے کہ بسااوقات عزاداری اور مجالس کے انعقاد میں بعض مقامات پر مشکلات ایجاد کی جاتی ھیں ان کو اچھے انداز میں ملکر حل کرنا چاھئے،حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری ھے کہ تمام مسالک کی عبادتگاھوں کو تحفظ فراھم کریں تا کہ کوئی شیطان اور شرپسند کی جگہ تعلیم القرآن والے سانحہ کی طرح کوئی شرارت کر کے امت میں انتشار پیدا کرنے میں کامیاب نہ ھو سکے،ھم سب متحد ھونگے تو امت مسلمہ کی عزت و عظمت ھو گی ملک میں امن و استحکام ھو گا اور اگر ھماری صفوں میں دراڑ ھو گی تو امت کمزور ھو گی اور وطن عزیز غیر مستحکم ھو گا۔