تازه خبریں

افغان حکومت و طالبان مذاکرات میں اہم سٹیک ہولڈرکونظر انداز نہ کیا جائے ، قائد ملت جعفریہ

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاہے کہ ہم نے ہمیشہ مسائل اورباہمی تنازعات کو بات چیت سے حل کرنے پر زور دیاہے، کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوتا اور باہمی مذاکرات سے ہی مسائل کا حل نکلتاہے لیکن حالیہ افغان طالبان اور افغانستان حکومت کے درمیان ہونیوالے مذاکرات سے ایسا تاثر مل رہاہے کہ جیسے یہ مذاکرات کسی دباؤ کے تحت ہورہے ہیں اور اہم سٹیک ہولڈرز کو نظر انداز کیا جارہاہے،ایران اور افغان طالبان کے تعلقات ڈھکے چھپے نہیں لیکن مذاکرات سے ایک مسلمہ سٹیک ہولڈرکویکسر نظرانداز کردینا بہت سے سوالات کا موجب بن رہاہے
ان خیالات کا اظہار انہوں نے افغان طالبان اور افغانستا ن حکومت کے درمیان ہونیوالے مذاکرات کی دو اہم نشستو ں پر تبصرہ کرتے ہوئے کیا ۔ انہو ں نے کہاکہ ہمارا ہمیشہ سے اصولی اور دوٹوک موقف رہاہے کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے ضروری ہے کہ باہمی تنازعات کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جائے کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ طاقت کا استعمال جہا ں کسی مسئلے کا حل نہیں ہوتا وہیں اس کی وجہ سے جانی و مالی نقصان بھی ہوتاہے اور بہت سے بے گناہ بھی اس کی بھینٹ چڑھ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ حالیہ افغان طالبان اور افغانستان حکومت کے درمیان مذاکرات کے دو دور ہوئے جس میں دونوں فریقین کے علاوہ پاکستان ، چین اور امریکہ بطور سٹیک ہولڈرز شریک ہوئے جس میں مسلمہ سٹیک ہولڈرکو یکسر نظر اندا ز کردیاگیا۔ ایران اور افغان طالبا ن کے تعلقات کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں ، ایران پاکستان کے بعد سب سے بڑا سٹیک ہولڈر ہے جس نے لاکھوں افغانی مہاجرین کو پناہ دے رکھی ہے اور براہ راست ان حالات سے متاثر بھی ہوا ہے اور ہمیشہ سے اس کا ان معاملات میں اہم کردار بھی رہاہے ، انہوں نے کہاکہ افغان طالبان اور ایران میں براہ راست تعلقات کے عینی شاہد ہم خود بھی ہیں کہ چند سال قبل تقریب بین المذاہب کے پروگرام میں نہ صرف افغان طالبان وفد نے شرکت کی بلکہ اس تقریب کے صدارتی پینل میں ملا عمر کا خصوصی نمائندہ بھی موجود تھا جس نے خطاب بھی کیااس سے واضح ہوتاہے کہ ایران کا اثرورسوخ کس حد تک ہے لیکن دوسری جانب امن مذاکرات میں اسے نظرانداز کرنا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کسی اشارے پر یہ مذاکرات ہورہے ہیں اوریہ معلوم نہیں کہ مذاکرات کا میزبان کس حد تک با اختیار ہے ، اس لئے ان مذاکرات کے دورس نتائج برآمد ہونے کی امیدہی کی جاسکتی ہے ۔ خدا امت مسلمہ کا حامی و ناصر ہو۔