تازه خبریں

اقدامِ امام حسین علیہ السلام کی اجمالی تفہیم (واقعہ کربلا کا پسِ منظر): امجد عباس

اقدامِ امام حسین علیہ السلام کی اجمالی تفہیم (واقعہ کربلا کا پسِ منظر):
ماہِ محرم الحرام کی آمد آمد ہے۔ 10 محرم الحرام 61ھ کو کربلا کے صحرا میں یزید کی بیعت نہ کرنے کے “جرم” میں آپ علیہ السلام کو اپنے بیٹوں، عزیزوں اور ساتھیوں سمیت شہید کردیا گیا۔ اِنا للہ و اِنا الیہ راجعون۔
واقعہءِ کربلا کو دقت سے ملاحظہ کرنا از حد ضروری ہے۔ امام حسن نے بعد از شہادتِ امام علی، امیرِ شام سے مشروط صلح فرمائی، شرائط میں یہ بھی طے تھا کہ امیر اپنے بعد کسی کو خلیفہ نامزد نہ کریں گے۔ شہادتِ امام حسن کے بعد، امیرِ شام نے اپنے آخری ایام میں اپنے بیٹے یزید کو اپنے بعد حکمران نامزد کر دیا۔ چنانچہ باپ کی وفات کے بعد، یزید نے عنانِ حکومت سنبھالتے ہی اپنے گورنروں کو لکھا کہ تمام علاقوں میں اُس کی بیعت لی جائے۔اُس نے مدینہ کے گورنر ولید بن عُتبہ اُموی کو بالخصوص حکم دیا کہ نواسہءِ رسول، امام حسین سے بیعت طلب کرے، چنانچہ ماہِ رجب 60ھ کے آخری عشرے میں ولید نے امام حسین کو رات کے وقت گورنر ہاؤس بُلا کر اطلاع دی کہ امیرِ شام کی وفات کے بعد اُن کا بیٹا یزید حکمران بن چکا ہے، لہذا آپ بیعت کیجیے۔ امام عالی مقام کو احساس تھا کہ امیرِ شام، شرائطِ صلح پر عمل نہ کرے گا، وہی ہوا۔ چنانچہ آپ نے فرمایا کہ میں ابھی بیعت نہیں کروں گا، ابھی مجھے سوچنے کا موقع دیں۔ یہ کہہ کر آپ واپس لوٹ آئے۔ نواسہءِ رسول، یزید کی بیعت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ گورنر بار بار اُن سے بیعت طلب کر رہا تھا، آپ نے ایک شام، اپنے اہلِ خانہ کے ہمراہ مدینہ منورہ کو خدا حافظ کہا اور مکہ کی طرف تشریف لے آئے۔ ایامِ حج شروع ہو چکے تھے، پوری دنیا سے مسلمان، حج کے لیے مکہ مکرمہ تشریف لائے، ایسے میں گورنرِ مکہ نے بھی آپ سے بیعت لینا چاہی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ آپ نے مختلف علاقوں سے آنے والے وفود کو بتایا کہ یزید جیسا فاسق و فاجر حاکم، اِس لائق نہیں کہ میں اُس کی بیعت کروں۔ مکہ مکرمہ میں آپ کی موجودگی کی اطلاع پا کر، اہلِ کوفہ نے آپ کو خطوط لکھے اور اِس امر کا اظہار کیا کہ واقعی یزید جیسا فاسق و فاجر، مسلمانوں کا خلیفہ ہونے کا ہرگز اہل نہیں۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں، آپ ہماری طرف تشریف لائیے۔ مل کر یزیدی نظام کے خلاف آواز اُٹھائیں گے۔
امام عالی مقام، کسی صورت یزید پلید کی بیعت نہیں کرنا چاہتے تھے۔ یزیدی حکومت ہر حال میں اُن سے بیعت لینے پر مُصر تھی۔ مکہ و مدینہ میں یزیدی حکومتی اہل کار آپ کو گرفتار کرنا چاہتے تھے، ایسے میں کوفہ ہی ایسی جگہ تھی جہاں کے بعض رہائشیوں نے آپ کا بھرپور ساتھ دینے اور پناہ دینے کی حامی بھری۔اہل کوفہ کی اکثریت، امام عالی مقام کی طرح یزیدی حکومت کی بیعت نہیں کرنا چاہتی تھے۔ اُن کا خیال تھا کہ نواسہءِ رسول کی معیت میں منظم تحریک چلانی چاہیے۔
یزیدی اموی ملوکیت کا آغاز ہی انسان دشمنی سے ہوا تھا، ایک طرف علوی خلافت کا دور ہے کہ امام علی خلیفہ منتخب ہوتے ہیں، عبداللہ بن عمر اور چند دیگر صحابہ کرام نے بیعت نہ کی۔ آپ نے اُن سے ذرا باز پُرس نہ کی، ہاں اتنا کہا کہ فتنہ و فساد کو ہوا نہ دینا۔ خوارج نے امام علی کی بیعت توڑی، سب و شتم کیا، آپ کی تکفیر تک کی، آپ نے اُنھیں کچھ نہ کہا، یہاں تک کہ اُن ظالموں نے بے گناہوں کا قتلِ عام کیا تو آپ نے اُن سے جنگ کی، یہی طرز امیرِ شام سے روا رکھا۔ دوسری طرف یزیدی اُموی ملوکیت ہے کہ حکم دیا جاتا ہے کہ ہر حال میں امام حسین سے بیعت لی جائے۔۔۔
میری نظر میں واقعہ کربلا کا آغاز یزید کی طرف سے بازورِ طاقت طلبِ بیعت سے ہوا۔ امام عالی مقام کسی صورت یزید کو جائز حاکم تسلیم نہیں کرنا چاہتے تھے، آپ یزید کی بطور حاکم نامزدگی اور اس کے ذاتی کردار کے پیش نظر اُسے تسلیم کرنے سے انکاری تھے، لیکن آپ ہرگز ابتداء میں یزیدی حکومت کے خلاف جہاد کے ارادے سے نہیں نکلے، آپ صرف بیعت سے بچنا چاہتے تھے۔ آپ نے جلدی میں اپنے خاندان کے کچھ افراد کے ساتھ مدینہ منورہ چھوڑا، پھر آہستہ سے مکہ مکرمہ کو خیر باد کہا، راستے میں ہم خیال لوگوں کے ملنے سے حسینی قافلہ بڑھتا چلا گیا۔ میدانِ کربلا میں بھی آخری وقت تک آپ کی کوشش رہی کہ جنگ کی نوبت نہ آئے، یزیدی فوجیں آپ کو کسی اور علاقے کی طرف جانے دیں لیکن حاکمِ وقت بزورِ طاقت بیعت لینا چاہتا تھا، چنانچہ یزیدی فوجوں نے پہلے حملہ کیا، امام عالی مقام اور آپ کے ساتھیوں نے جوابی مزاحمت کی۔ اگر آپ سے زبردستی بیعت نہ لی جاتی تو شاید حالات ایسا رُخ اختیار نہ کرتے۔ بہر کیف اِس واقعہءِ جاں سوز کی ساری ذمہ داری یزید اور اُس کے ساتھیوں پر عائد ہوتی ہے۔
«اَلسَّلامُ عَلَى الْحُسَیْنِ وَ عَلى عَلِىِّ بْنِ الْحُسَیْنِ وَ عَلى اَوْلادِ الْحُسَیْنِ و عَلى اَصْحابِ الْحُسَیْنِ»