دفتر قائد ملت جعفریہ مشہد مقدس کے زیر اہتمام مدافع حریم ولایت کانفرنس سے خصوصی خطاب کرتے ہوئے مرکزی رہنماء شیعہ علماء کونسل پاکستان وسرپرست الزہراء اکیڈمی حجۃ لاسلام علامہ شبیر حسن میثمی نے کہا کہ میں تمام ان لوگوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں  جن لوگوں نے دفتر نمائندہ ولی فقیہ وقائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی  شعبہ مشہد مقدس دفتر کے ساتھ تعاون کرتے ہیں  اور یہاں پر ہونے والے پروگرامز کو کامیاب کرتے ہیں . مختصر ایک جملہ ذکر کرتا چلوں کہ پاکستان کے سلسلے مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کے کہ میں جب آتا ہوں تو ہم سے دقیق سوال کئے جاتے ہیں, اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کے آپ کو اپنے ملک سے کتنا پیار ہے اور آپ بے خبرنہیں ہیں اس کو آگے بڑھائیں اور یہ آپ کی اپنے ملک سے محبت اور اپنے ملک کے  بنانے والے مومنین سے محبت کا اظہار ہے
انہوں نے بعد میں کہا کہ مطلع رہئے العالم بزمانہ لایھجم الحوادثہ اس پر توجہ رکھیں ایک جملہ عرض کروں کے پاستان کو طالبان اسٹریٹ بنانے کی تیاریان ہورہی ہیں  ومکروہ مکر اللہ واللہ خیر۔۔۔۔
لیکن اس بات کو میڈیا اتنا بتاتا ہے کے جیسے کل طالبان کاملا اس ملک پر قابض ہوگئے ہیں . میں جمعے کے خطبوں مین عرض کرتا ہوں ایک بات چلی تھی کہ کراچی میں ایک تھائی طالبان قبضہ کرچکیں ہین لیکن واقعا ہے ایک علائقے میں واقعا آپ نھیں جاسکتے واقعا ان کا ادھر کنٹرول ہے ان کی شوری ہے ان کی کورٹ ہے
لیکن میں نے خطبے مین کہا کے اے شیعو: جہاں آپ کراچی میں کھتے ہو طالبان اسٹیٹ بنا جارہا ہے ایک الگ الگ علائقوں پر قبضہ کر چکے ہین ہمیں یھاں کچھ کرنے نھیں دینگے لیکن دو مھینے دس دن آپ نے ایسے عزاداری کی کے ہمارے علاوہ  اس ملک مین کوئی ہے ہی نہیں یعنی الحمدللہ عزاداری کم نہیں ہوئی بلکہ بڑھی ہےپہلے  ایام فاطمیہ میں وہ عزاداری نہیں ہوتی تھی جو اب ہوتی ہے اور ہونے لگی ہے اور اسی طرح سے نشتر پارک میں بڑا اجتماع اس بات کا ثبوت ہے کے اس مظلومہ کی خاطر جس پر دروازہ گرادیا گیا جس کے لیئے رسول اکرم نے فرمایہ فاطمۃ بضعہ منی عزاداری دن بدن بڑہتی جارہی ہے کم نہیں ہوئی.
علامہ شبیر حسن میثمی نے آخر مین مصیبت سیدہ سلام اللہ علیہا  کو بیان فرمایا اسکے بعد دعائیہ کلمات کھے اور آخر میں مسئول دفتر قائد ملت جعفریہ مشہد مقدس مولانا وحید علی ساجدی نے زیارت پڑھائی  اور تمام علماء اور طلاب اور زائرین اور پاکستان سے آئی ھوئی شخصیات کا شکریہ ادا کیا ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here