• اسلامی تحریک پاکستان صوبہ سندھ کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا
  • عزاداری مذہبی و شہری آزادیوں کا مسئلہ، قدغن قبول نہیں، علامہ شبیر میثمی
  • قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ

تازه خبریں

امام خمینیؒ کی شخصیت علامہ محمد رمضان توقیر

امام خمینیؒ کی شخصیت علامہ محمد رمضان توقیر

امام خمینی کی شخصیت اور انقلاب اسلامی ایران سے متاثر ہو کر دنیا کے مختلف ممالک کے باشعور اور حریت پسند مسلمانوں نے انقلاب اسلامی کی حمایت کی اور امام خمینی کی ذات کو اپنے لئے رہبر اور رہنما تصور کیا۔
علامہ محمد رمضان توقیر

ڈیرہ اسماعیل خان(جعفریہ پریس )*شیعہ علماء کونسل پاکستان کے مرکزی نائب صدر علامہ محمد رمضان توقیر نے امام خمینی کی 33 برسی کے موقع پر میڈیا نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امام خمینیؒ فقط ایک اعلیٰ فقیہ، عظیم مجتہد، جیّد مذہبی رہنما، مرجع تقلید اور مذہبی شخصیت نہیں ہیں بلکہ قابل تقلید سیاسی قائد، مثبت اور اعلیٰ تعمیری سیاست کے بانی، عالمی استعمار کی سازشوں کو بے نقاب کرنے والے، مسلمانوں کو اپنے نظریات اور عمل کے ذریعے وحدت کی لڑی میں پرونے والے، عالم اسلام کو ان کے حقیقی مسائل کی طرف متوجہ کرنے والے، امت مسلمہ کو اس کے داخلی اور خارجی دشمنوں کے چہرے شناخت کرانے والے اور دنیا کو اسلام کے دائرے میں رہتے ہوئے ہر میدان میں ارتقاء کے مراحل طے کرنے کی مثال پیش کرنے والے عظیم انسان ہیں. یہی وجہ ہے کہ انقلاب اسلامی کی جدوجہد میں امام خمینیؒ نے 15 سالہ جلا وطنی کے باوجود اپنے ملک کے عوام کی تربیت اور رہنمائی اس انداز سے کی کہ بالآخر عوام اپنے حقوق حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔

رہبر انقلاب ِاسلامی حضرت امام خمینی ؒ کی سچی قیادت، اسلام سے والہانہ اور مخلصانہ وابستگی اور خالی دعوؤں کے بغیر حقیقی عملی جدوجہد کی وجہ سے ایران کے کروڑوں عوام ہزاروں قربانیاں دینے کے باوجود آپ کی قیادت میں متحد رہے۔بالآخر شاہ ایران کو اپنی بادشاہت اور تسلط سمیت ایران سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔ہزاروں سالوں سے مسلط بادشاہت کا نظام اس طرح زمین بوس ہوا کہ آج اس کی مٹی تک نہیں ملتی۔

انکا مزید کہنا تھاکہ بعض طبقات اس خدشے کا اظہار کر رہے تھے کہ امام خمینیؒ ایک دینی عالم ہیں اور علماء کے پاس حکومتیں چلانے، نظام کو بحال رکھنے، امور مملکت انجام دینے اور دنیا کے ساتھ ساتھ چلنے کا سلیقہ نہیں ہوتا۔ اس لئے انہیں حکومت راس نہیں آئے گی اور بالآخر سابقہ قوتیں دوبارہ ایران کی مالک بن جائیں گی لیکن امام خمینیؒ نے داخلی حوالے سے ولایت فقیہ کے نظام کے تحت اور خارجی حوالے سے وحدت امت کے پیغام کے تحت اس انداز میں ایران کی ترقی اور انقلاب کے تحفظ کا آغاز کیا کہ ان کی زندگی میں انقلاب اسلامی ایک مضبوط اور مستحکم انقلاب بن چکا تھا۔

آخر میں علامہ محمد رمضان توقیر عالم اسلام کو متوجہ کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کی بلا تفریق فرقہ و مسلک ذمہ داری بنتی ہے۔ایرانی و پاکستانی عوام پر خصوصی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اسلامی انقلاب کے تسلسل اور اسلامی معاشروں میں امام خمینیؒ کی شخصیت کو زیادہ سے زیادہ متعارف کرانے کے لئے کوششیں کریں