امرتسر:افغان امن و ترقی کے حوالے سے ہارٹ آف ایشیا کانفرنس کا آغاز
بھارت کے شہر امرتسر میں افغانستان میں امن و ترقی کے حوالے سےچھٹی ہارٹ آف ایشیا کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مشیر خارجہ سرتاج عزیز نے کہا کہ خطے میں قیام امن کے لئے الزام تراشی کے بجائے مثبت اقدامات پر توجہ دینی چاہیے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ کانفرنس کا فورم افغانستان میں امن و استحکام اور افغانستان کیساتھ دوسرے ملکوں کے تعلق میں موثر کردار ادا کررہا ہے۔سرتاج عزیز نے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کی قیادت میں افغانستان میں ہونے والی ترقی کو بھی سراہا ۔مشیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں امن و استحکام کے لیے ہمیں اپنی کوششوں کا سنجیدگی سے جائزہ لینا ہو گا۔انہوں نے کہا کہ تمام تنازعات کے پُر امن حل سے ہی علاقائی تعاون کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان افغانستان کی ہر ممکن مدد جاری رکھے گا ۔انہوں نےکہا کہ پاکستان نےگزشتہ تین دہائیوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کی مہمان نوازی کی ہے اورمہاجرین کی با عزت واپسی کیلئے اقوام متحدہ کے مہاجرین کے کمیشن کیساتھ ملکر کام کرر ہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ افغان مہاجرین کی رضا کارانہ واپسی کا عمل اکتیس دسمبر دو ہزا رسترہ تک مکمل ہو جائےگا۔مشیر خارجہ نے کہا کہ سارک سربراہ کانفرنس کے ملتوی کیے جانے سے علاقائی تعاون کی کوششوں کو دھچکا لگا ہے۔ اس سے پہلےکانفرنس کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا کہ کانفرنس افغانستان میں دیرپا قیام امن اور معاشی ترقی کیلئے اہمیت کی حامل ہے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے مشترکہ کوششیں کرنا ہونگی۔نریندر مودی نے کہا کہ ہم افغانستان میں امن اور دیرپا سیاسی استحکام کیلئے پر عزم ہیں۔ افغانستان کے صدر اشرف غنی نے کانفرنس سے خطاب میں افغان مسئلے پر توجہ دینے پر عالمی رہنماؤں کا شکر یہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو سکیورٹی کے شدید خطرات درپیش ہیں۔افغان صدر نے کہا کہ اُن کی حکومت ملک میں دیرپا قیام امن اور استحکام پر توجہ دے رہی ہے۔