• اسلامی تحریک پاکستان صوبہ سندھ کا اجلاس کراچی میں منعقد ہوا
  • عزاداری مذہبی و شہری آزادیوں کا مسئلہ، قدغن قبول نہیں، علامہ شبیر میثمی
  • قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقو ی کی ا پیل پر بھارت میں توہین آمیز ریمارکس پر ملک گیر احتجاج
  • قائد ملت جعفریہ پاکستان کی مختلف شخصیات سے ان کے لواحقین کے انتقال پر تعزیت
  • اسلامی تحریک پاکستان کا گلگت بلتستان حکومت میں شامل ہونے کا فیصلہ
  • علماء شیعہ پاکستان کے وفدکی وفاقی وزیر تعلیم سے ملاقات نصاب تعلیم پر گفتگو مسائل حل کئے جائیں
  • بلدیاتی انتخابات سندھ: اسلامی تحریک پاکستان کے امیدوار بلامقابلہ کامیاب
  • یاسین ملک کو دی جانے والی سزا ظلم پر مبنی ہے علامہ شبیر حسن میثمی شیعہ علماء کونسل پاکستان
  • ملی یکجہتی کونسل اجلاس علامہ شبیر میثمی نے اہم نکات کی جانب متوجہ کیا
  • کراچی میں دہشتگردی کی مذمت کرتے ہیں شیعہ علماء کونسل پاکستان صوبہ سندھ

تازه خبریں

امریکیوں کو ذلیل و خوار ہوکے خطے سے بھاگنا پڑے گا، نصراللہ

جنوبی بیروت میں سردار محاذ استقامت جنرل قاسم سلیمانی اور ابومہدی المہندس کی یاد میں منعقدہ ایک بڑے تعزیتی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ جنرل سلیمانی کی شہادت سے ایک سرنوشت ساز مرحلہ شروع ہوگیا ہے۔

سید حسن نصراللہ کا کہنا تھا کہ دشمن زیادہ سے زیادہ جو کام کرسکتا ہے وہ ہمیں قتل کرسکتا ہے اور ہمارا بہترین مقصد شہادت ہے، بنابرایں ہم شکست نہیں کھائیں گے۔

حزب اللہ کے سربراہ نے کہا کہ خطے میں جاری استقامت کو محدود کرنے کی امریکی کوششیں بے نتیجہ رہیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ ایران کے خلاف جنگ ناکوں چنے چبانے کے مترادف ہے۔

سید حسن نصراللہ نے کہا کہ جنرل قاسم سلیمانی کے قتل کا انتقام لینا ہمارا کام ہے۔انہوں نے جنرل قاسم سلیمانی کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ بعض لوگ یہ کہہ رہے ہیں کہ استقامتی محاذ شہید جنرل قاسم سلیمانی کے خون کا خراج اسی پائے کے کسی عہدیدار سے لے گا لیکن میں کہتا ہوں کہ شہید قاسم سلیمانی کے پائے کا کوئی شخص موجود ہی نہیں۔ انہوں نے کہا ڈونلڈ ٹرمپ کا سر، جنرل قاسم سلیمانی کی جوتیوں کے برابر بھی نہیں، البتہ ہم ان کا منصفانہ قصاص لے کے رہیں گے اور خطے سے امریکہ کو نکال باہر کریں گے۔انہوں نے کہا کہ امریکیوں کو ذلیل و خوار ہوکر خطے  سے بھاگنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ امریکیوں کے علاقے سے نکل جانے کے بعد بیت المقدس کی آزادی کا وقت قریب آجائے گا اور شاید ہمیں اس کے لیے جنگ بھی نہ کرنا پڑے۔