راولپنڈی /اسلام آباد21اپریل 2016 ( ) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ امیرالمومنین حضرت علیؑ ابن ابی طالب ؑ کے طرز جہانبانی، نظام حکمرانی اور نظام احتساب سے استفادہ کرکے امت مسلمہ کے موجودہ حالات اور خراب صورت حال کو درست کیا جا سکتا ہے کیونکہ امیر المومنین ؑ نے جہاں عالم کفر کی طرف سے اسلام پر یلغار کا دفاع کیا اور اسلام کو محفوظ اور مستحکم رکھا اسی طرح علی ابن ابی طالب ؑ نے مسلمانوں کے اندر داخلی سطح پر موجود برائیوں ، بے اعتدالیوں، بے راہ رویوں، فساد اور منفی رویوں کے خاتمے کے لیے بھی بھرپور جہاد کیاعلامہ ساجد نقوی نے کہا کہ حضرت علی ابن ابی طالب ؑ نے بیک وقت تطہیر نفس اور تطہیر نظام کی طرح ڈالی اور اسے عملی طور پر ثابت کر دکھایا آپ ؑ نے تطہیر نفس کے لیے تقوی، شب بیداری، عبادت، حسن سلوک،عاجزی، انکساری اور تواضع جیسی صفات اختیار کیں جبکہ تطہیر نظام و معاشرہ کے لیے عدل، انصاف، اعتدال، توازن، حقوق کا حصول اور اسلامی نظام حیات کے نفاذ کے لیے بھرپور عملی اقدامات اٹھائے۔ یہی وجہ ہے کہ آپؑ کے اندر ذاتی اور اجتماعی رہنمائی کے لیے تمام خصوصیات اور شرائط موجود تھیں جس سے ایک عام انسان سے لے کر دنیا پر حکمرانی کرنے کے خواہش مند شخص کے لیے مکمل استفادے کا سامان موجود ہے اور آپ کی سیرت ، کردار اور عمل اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ دور حاضر کے اکثر مسائل کے پس منظر میں عدل کا فقدان، ناانصافی اور ظلم و تجاوز کا عمل دخل نظر آتا ہے چونکہ عدل وانصاف کا قیام سب سے مشکل اور سنگین کام ہے اس لیے مسلم ممالک عدل و انصاف پر مبنی پالیسیاں بنانے اور اقدامات اٹھانے سے گریزاں نظر آتے ہیں اور اس کے لیے مختلف بہانے تراشتے ہیں۔اقوام عالم حتی کہ مذاہب انسانی میں بھی عدل وانصاف کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا جاتا ہے ۔ دنیا میں اس وقت عالم اسلام پر ہونے والے مظالم ، تجاوز اور مسلط کی جانے والی جنگیں اس بے عدلی اور ناانصافی کی زندہ مثالیں ہیں۔فلسطین، لبنان ، عراق، ایران اور شام کے معاملے میں جہاں امریکہ ، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل نا انصافی اور جانبداری کا مظاہرہ کر رہے ہیں وہاں او آئی سی اور مسلم ممالک بھی اس ناانصافی اور جانبداری پر خاموش تماشائی ہیں۔ او آئی سی کے حالیہ اجلاس میں اگرچہ قرارداد کی حد تک لبنان اور لبنان کے مسلم عوام کی مدد اور امریکہ و اسرائیل جیسی جارح قوتوں کے خلاف کسی قسم کا ٹھوس اور عملی قدم اٹھانے کا اعلان نہیں کیا گیا ہے
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ سیرت علی ابن ابی طالب ؑ ہی ایک راستہ ہے کہ جس پر عمل کرکے ہم لبنان، عراق، ایران، شام ، پاکستان اور پورے عالم اسلام کے تمام مسائل حل کر سکتے ہیں۔ کردار امیرالمومنین ؑ کے مطابق اپنے نفس کی تطہیر اور تزکیہ کر کے ، نظام کی خرابیوں کو درست کرکے اور اپنے آپ کو منظم و متحد کرکے ہم ظلم، ناانصافی، بے عدلی، تجاوز، دہشت گردی اوردیگر چیلنجز کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔پاکستان کے مسائل کا حل بھی شفاف ، منصفانہ، عادلانہ اور غیر متنازعہ نظام حکومت میں مضمر ہے جس میں امیر المومنین ؑ کے مثالی دور کے اصولوں سے استفادہ کرتے ہوئے ظلم کا نام ونشان مٹایا جائے، ناانصافی اور تجاوز کا خاتمہ کیا جائے۔تمام شہریوں کو ان کے بنیادی، انسانی،مذہبی اور شہری و آئینی حقوق دستیاب ہوں۔ طبقاتی تقسیم اور تفریق کی بجائے مساوات کا نظام رائج ہو۔ اتحادووحدت اور اخوت ورواداری کا عملی مظاہرہ ہو۔دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ پرستی، جنونیت اور فرقہ وارانہ منافرت کا وجودہی باقی نہ ہو۔امن ،خوشحالی کا دور دورہ ہو۔ معاشی نظام قابل تقلید ہو اور معاشرتی سطح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے ذریعے اتنی بلند ہوجائے کہ دنیا کے دوسرے معاشرے اس کی پیروی کرنے کو اپنے لئے اعزاز سمجھیں۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ ہمیں اس موقع پر عہد کرنا ہوگا کہ امت مسلمہ اور عالم اسلام کو شدید بحرانوں اور سنگین مسائل سے نجات دلانے کی جدوجہد کے ساتھ ساتھ پاکستان کو امیرالمومنین ؑ کے اقوال و افکار کی روشنی میں ایک اسلامی و فلاحی ریاست بنانے کے لیے شبانہ روز کوشش کریں گے۔ اور پاکستان کو عدل علی ؑ کی روشنی میں متحدومتفق ہوکر دنیا کے نقشے پر ممتاز ومنفرد بنائیں گے تاکہ پاکستان کے خارجی دشمن اور ان کے آلہ کاروں کی تمام سازشیں ناکام ہوجائیں۔