تازه خبریں

امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم شہادت (21 رمضان المبارک 1436 ھ )کی مناسبت سے قائدملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی کا پیغام

قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ پیغمبر گرامی قدرؐ نے اپنی رسالت‘ اسلام کے پیغام کی ترویج اور نشرواشاعت ، اسلام کے تحفظ اور اسلام کے نفاذ کے لئے امیرالمومنین حضرت علی ابن ابی طالب ؑ کو خصوصی طور پر تیار کیا اور اعلی نہج پران کی تربیت کی۔ بچپن سے لے کر زندگی کے تمام مراحل تک حضرت امیر ؑ خلوت وجلوت میں پیغمبر خداؐ کیساتھ رہے اس قربت کا ذکر احادیث پیغمبر ؐ اور اقوال علی ؑ میں واضح انداز میں ملتا ہے کہ امیرا لمومنین ؑ نے زندگی کے تمام مراحل رسول خدا ؐ کی نگرانی و سرپرستی میں طے کئے ۔ انہی کامرانیوں کی بدولت وقت شہادت فزت برب الکعبہ کی صدا محراب کوفہ سے بلند کی۔
امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے یوم شہادت پر اپنے پیغام میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پیغمبر خدا ؐ سے اسی براہ راست رشتے ، تعلق اور سرپرستی کا سبب ہے کہ امیرالمومنین ؑ کی زندگی تعلیمات قرآنی اور سیرت رسول اکرم ؐ کا عملی نمونہ اور روشن تفسیر کے طور پر موجود ہے۔ اسی تربیت کی وجہ سے امیرالمومنین ؑ کا دور حکومت پیدا کئے گئے بحرانوں کے باوجود کامیاب دور حکومت تھا۔ اگرچہ حکمرانوں نے تاریخ کو مسخ کرتے ہوئے اور حقائق پر پردہ ڈالتے ہوئے امیر المومنین ؑ کے تاریخی اور انقلابی اقدامات کو چھپانے کی بہت کوششیں کیں لیکن تاریخ کے جھروکوں سے وہ تمام کامیابیاں اور اصلاحات واضح طور پر آج بھی نظر آرہی ہیں۔ امیرا لمومنین ؑ نے مختلف میدانوں میں جو اقدامات اور اصلاحات کیں وہ تمام ادوار اور تمام نظام ہائے حکومت کے لیے نمونہ عمل ہیں۔
علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ امیرالمومنین ؑ کی ذاتی اور اجتماعی سیرت کا ایک اہم اور درخشاں پہلو عدل اجتماعی کا نفاذہے۔ آپ ؑ نے اپنے ذاتی امور اور حکومتی معاملات کے لئے الگ الگ چراغ جلا کر اور اپنے قریبی اور حقیقی بھائی کو بیت المال سے صرف جائز حق دے کر عدل کی اعلی ترین مثالیں قائم کیں۔ اسی عدل کے سبب آپ ؑ کی شہادت واقع ہوئی ہے۔ عدل علی ؑ آج بھی دنیا میں ایک نمونے اور ماڈل کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور امیرالمومنین ؑ کے طرز حکمرانی اور طرز جہاں کو بانی اقوام متحدہ کے چارٹر میں شامل کیا گیا ہے۔ اسی موضوع پر دنیا کے مشہور دانشور جارج جرداق نے ’’ انسانی عدالت کی آواز امام علی ؑ ‘‘ کے نام سے تاریخی کتاب لکھی ہے۔
علامہ ساجد نقوی نے مزید کہا کہ حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی زندگی سے ایک عام انسان سے لے کر حکمران تک اور ایک طالب علم سے لے کر ایک فقیہہ تک ہر شخص بھرپور استفادہ کرسکتا ہے۔ آج عالم اسلام میں جہالت، افلاس، فکری وعلمی پسماندگی، غربت، استحصال، کرپشن، طبقاتی تفریق، ظلم وجور، اور بے عدلی وناانصافی جیسے مسائل موجود ہیں ان تمام مسائل کا سبب یہی ہے کہ مسلم ممالک میں امیرالمومنین ؑ کے طرز حکمرانی اور طرز جہاں بانی سے استفادہ نہیں کیاجارہا۔ لہذا ہمیں حضرت علی ؑ کے تصور اسلام اور انداز حکمرانی کا مطالعہ کرنا ہوگا تاکہ امیرالمومنین ؑ کی ہمہ جہت شخصیت‘ ان کے دیئے ہوئے اصول اور ان کے چھوڑے ہوئے نقوش سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے گھمبیر معاشرتی‘ معاشی‘ سیاسی‘ ثقافتی‘ تعلیمی اور انتظامی مسائل کا عصری تقاضوں کے مطابق حل تلاش کرسکیں ۔ علاوہ ازیں انفرادی زندگی میں حضرت علی ؑ کی سیرت کو نمونہ عمل قرار دے کر اپنی دنیوی واخروی نجات کا سامان پیدا کرسکیں