شیعہ علماء کونسل سندھ کی صوبائی کونسل کے اجلاس سے قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی کا ٹیلی فونک خطاب؛ تنظیمی اہداف کے حصول کے لیے اخلاصِ نیت، باہمی احترام اور پرامن جدوجہد پر زور
نوابشاہ: قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا ہے کہ تنظیمی فعالیت، وحدت و اخوت اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد بنیادی اہمیت کی حامل ہے۔ تنظیم جتنی فعال اور متحرک ہوگی، اپنے مقررہ اہداف کے حصول میں اتنی ہی آسانی ہوگی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے شیعہ علماء کونسل صوبہ سندھ کی صوبائی کونسل کے نوابشاہ میں منعقدہ اجلاس سے ٹیلی فونک خطاب کرتے ہوئے کیا۔
اجلاس میں مرکزی سیکرٹری جنرل شیعہ علماء کونسل پاکستان علامہ شبیر حسن میثمی، صوبائی صدر سندھ علامہ اسد اقبال زیدی، مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد علی جروار ،صوبائی سیکرٹری اطلاعات علی عظمت بلوچ ، صوبائی نائب صدور سمیت صوبے بھر سے تنظیمی عہدیداران اور کارکنان نے شرکت کی۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے صوبائی صدر، سیکرٹری جنرل اور صوبائی کونسل کے تمام اراکین کو سلام پیش کرتے ہوئے اجلاس میں ان کی بھرپور شرکت، توجہ اور تنظیم سے وابستگی کو سراہا۔ انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ یہ اجتماع مؤثر ثابت ہوگا اور اس کے مثبت اثرات معاشرے تک پہنچیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ہر تنظیم کے اہداف متعین ہوتے ہیں اور ان کے حصول کے لیے تنظیم کو فعال، منظم اور متحرک رکھنا ضروری ہے۔ ہماری تنظیم کا بنیادی ہدف ملک میں رہنے والے افراد کے حقوق کا تحفظ اور بیرون ملک مقیم افراد کے حقوق کے لیے بھی آواز بلند کرنا ہے۔ مذہبی، سیاسی، معاشی، سماجی، اخلاقی اور انتظامی امور سمیت صحت اور تعلیم کے شعبوں میں حقوق کے حصول کے لیے آواز اٹھانا اور پرامن راستے اختیار کرنا ہماری بنیادی پالیسی ہے۔
آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے کہا کہ سندھ سے حقوق کے تحفظ کے لیے ہمیشہ توانا آواز بلند ہوتی رہی ہے، یہاں تنظیمی فعالیت بہتر رہی ہے اور جدوجہد کا تسلسل برقرار رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اس فعالیت کو مزید مؤثر بنایا جائے اور تنظیمی اہداف کے حصول کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں۔
قائد ملت جعفریہ پاکستان نے قرآن مجید کی آیت مبارکہ لَن يَنَالَ اللَّهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَٰكِن يَنَالُهُ التَّقْوَىٰ مِنكُمْ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو قربانی کے جانوروں کا گوشت اور خون نہیں پہنچتا بلکہ بندوں کا تقویٰ اس تک پہنچتا ہے۔ اس سے یہ رہنمائی ملتی ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں قربتِ الٰہی اور اخلاصِ نیت کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔ تنظیمی امور بھی رضائے الٰہی کے حصول کے جذبے کے تحت انجام دیے جائیں تو کامیابی و کامرانی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔
انہوں نے تنظیمی اراکین پر زور دیا کہ گروہ بندی سے اجتناب کریں، اپنی نیتوں کو صاف و شفاف رکھیں اور اپنی صفوں میں وحدت، اخوت اور باہمی احترام کو برقرار رکھیں۔ ایک دوسرے کے ساتھ رابطے مضبوط بنائیں، ایک دوسرے کا احترام کریں اور مشکل وقت میں ایک دوسرے کی پشت پناہی کریں۔ ان اقدامات سے تنظیم مضبوط ہوگی اور حقوق کے حصول کے لیے جاری جدوجہد کو مزید تقویت ملے گی۔
آیت اللہ سید ساجد علی نقوی نے توقع ظاہر کی کہ صوبائی کونسل کا یہ اجلاس مثبت اور مؤثر نتائج کا ذریعہ بنے گا اور اس کے اثرات تنظیمی فعالیت کے فروغ اور حقوق کے تحفظ کی جدوجہد میں نمایاں ہوں گے۔ انہوں نے اجلاس میں شریک تمام عہدیداران اور کارکنان کا شکریہ ادا کیا ۔
خطاب سنیں


























