انسانیت ماضی کی نسبت آج سنگین ترین غلامی میں گرفتار ہے ،آیت اللہ سید ساجد نقوی

انسانیت ماضی کی نسبت آج سنگین ترین غلامی میں گرفتار ہے ، ساجد نقوی
تہذیبی غلامی نے انسانی شعور پر حملہ کرکے سوچنے اور جینے کا حق تک چھین لیا ،قائد ملت جعفریہ پاکستان
پاکستان تحریک آزادی کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا لہذا اس کی داخلی و خارجی ہر لحاظ سے آزادی بر قرار رکھنا ضروری ہے
راولپنڈی/ اسلام آبا د 2 دسمبر 2021 ء( جعفریہ پریس پاکستان) قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کہتے ہیں انسان کو آزاد پیدا کیاگیاہے مگر ہر دور میں اسے ایک نئے انداز میں غلامی کا سامنا کرنا پڑا ہے، اگرچہ کافی حد تک فرد کی غلامی کے دور کا خاتمہ ہوا مگر فرد کی غلامی سے سخت قوموں اورریاستوں کی غلامی نے لے لی ہے جو پہلے درجے سے کہیں زیادہ سخت ہے، اس وقت عالمی انسانیت سیاسی، معاشی ،معاشرتی (تہذیبی) غلامی میں جکڑی ہے، سب سے خطرناک تہذیبی غلامی ہے جس نے انسان کے شعور پر حملہ کرکے اس سے سوچنے اور جینے کا حق تک چھین لیا ۔ ان خیالات کا اظہار انہوںنے2دسمبر غلامی کے خاتمے کے عالمی دن کی مناسبت سے اپنے پیغام میں کیا۔ قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے کہاکہ انسان کی اپنی حریت کیلئے طویل جدوجہد ہے اور اسے سب سے بڑا راستہ بھی خدا وند متعال کی جانب فراہم کیاگیا، دین الٰہی نے ہر دور میں غلامی کی نہ صرف مذمت کی بلکہ اس کےلئے رہنمائی بھی فراہم کی، فرعون مصر سے کس طرح بنی اسرائیل کو نجات ملی رہتی دنیا تک کےلئے بہت بڑی مثال ہے جبکہ حضور اکرم نے اس دور کی سب سے بڑی غلامی کے دور خاتمہ کیا۔ آج کی مہذب دنیا سمیت کسی بھی دین میں غلامی کا کوئی اختیار نہیں، امیر المومنین علی ابن ابی طالب ؑکا فرمان ہے کہ ”تم نے کب سے لوگوں کو غلام بنایا جبکہ خدا وند متعال نے اسے آزاد پیدا کیا “۔مگر آج عالمی سرمایہ داری نظام، کیپٹل ازم اور اس جیسے دوسرے بظاہر خوبصورت نعروں نے نہ صرف افراد بلکہ معاشروں، قوموں اور ریاستوں کو غلامی کی ایسی زنجیروں میں جکڑ رکھا ہے جس سے فرار مشکل ترین ہوتا جارہاہے۔ آج کے دور میں انسانیت مختلف قسم کی غلامی کی زنجیروں میں جکڑی میں جن میں سیاسی، معاشی، معاشرتی (تہذیبی ) غلامی ہیں، ایک جانب عالمی مالیاتی اداروں نے مختلف قوموں اور ریاست کو جکڑا ہوا ہے دوسری جانب بڑی طاقتیں اپنی سیاسی چالوں کے ذریعے قوموں پر مسلط ہیں توتیسری جانب اقتصادی پابندیوں کے جال اور آئے ر وزننگی جارحیت کے ذریعے انسانیت کی تذلیل اور ان کی زمینوں کو انہی پر تنگ کردیا جاتاہے البتہ ان میں سب سے سنگین ترین و خطرناک تہذیبی غلامی ہے جس نے انسان کے شعور پر حملہ کرکے اس سے سوچنے اور جینے کا حق تک چھین لیاہے ، جب تک دنیا میں مساوی انسانی حقوق کی پاسداری نہیں ہوگی، بین الاقوامی چارٹرز جو صرف بیانات کی حد تک ہیں ان پر عمل پیرا نہیں ہوا جائےگا اس وقت تک انسانیت کو اس غلامی سے بھی نجات ملنا ممکن نہیں ہوگا۔آخر میں علامہ ساجد نقوی نے کہا کہ پاکستان تحریک آزادی کے نتیجہ میں معرض وجود میں آیا لہذا اس کی داخلی و خارجی ہر لحاظ سے آزادی بر قرار رکھنا ضروری ہے اس کیلئے لازم ہے کہ آئین کوبالادست رکھتے ہوئے اس پر مکمل طورپر عمل درآمد کیا جائے اور قانون کی مکمل پاسداری کی جائے ۔