تازه خبریں

اگر انتظامیہ مسجد کے پیش امام کو اشتعال انگیز اور جذبات بھڑکانے والی تقریر سے روک دیتے تو قوم کو اتنا بڑا سانحہ نہ دیکھنا پڑتا، سید اسد علی شاہ

جعفریہ پریس – سانحہ راولپنڈی مسجد کے پیش امام کی طرف سے اشتعال انگیز تقریر کے بعد رونما ہوا، سانحہ میں زخمی شیعہ کمیونٹی کے افراد کو بھی معاوضہ دیا جائے، بغیر تحقیق گرفتاریوں کا سلسلہ بند کیا جائے، کرفیو کے باوجود شہر بھر میں شرپسندوں نے مسلح ہو کر مساجد و امام بارگاہیں اور گھروں کو جلایا، ان خیالات کا اظہار شیعہ علماءکونسل تحصیل ٹیکسلا کے صدر سید اسد علی شاہ نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کیا  -انھوں نے مزید کہا کہ  قابل افسوس امر یہ ہے کہ  کرفیو کے باوجود شہر بھر میں شرپسند عناصر نے عاشورہ واقعہ کو ایشو بنا کر مسلح جارحیت جاری رکھی ، جس کے نتیجہ میں بہت ساری مساجد امام بارگاہوں میں قرآن پاک و دیگر مقدسات، دوکانوں اور گھروں کو جلایا جاتا رہا اور فوج اور پولیس تماشائی کا کردار ادا کرتی رہی ۔
، شیعہ علماءکونسل تحصیل ٹیکسلا کے صدر نے مطالبہ کیا کہ شیعہ کمیونٹی کے زخمی افراد کو بھی معاوضہ دیا جائے اور جن امام بارگاہوں اور گھروں کو جلایا گیا انکا معاوضہ بھی حکومت فوری طور پر ادا کرے، سید اسد علی شاہ نے کہا کہ بغیر تحقیق کے بے گناہ افراد کی گرفتاریوں کا سلسلہ باعث تشویش ہے، کرفیو کے باعث 11 محرم کے جلوس کو روکنا شہری آزادی پر قدغن کے مترادف ہے جو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا، انھوں نے کہا کہ اگر انتظامیہ مسجد کے پیش امام کو اشتعال انگیز اور جذبات بھڑکانے والی تقریر سے روک دیتے تو قوم کو اتنا بڑا سانحہ نہ دیکھنا پڑتا انتظامیہ کو پتہ بھی تھا کہ اس مسجد سے پہلے بھی جلوس پر پتھراﺅ ہوتا رہا ہے اور اس کے باوجود مسجد کا لاوڈ سپیکر بند نہیں کیا گیا، انھوں نے میڈیا سے مطالبہ کیا کہ وہ عوام کو سانحہ راولپنڈی کے اصل حقائق بتائیں۔