• مفتی رفیع عثمانی کی وفات سے علمی حلقوں میں خلاء پیدا ہوا علامہ شبیر حسن میثمی
  • مسئول شعبہ خدمت زائرین ناصر انقلابی کا دورہ پاکستان
  • علامہ عارف واحدی کا سید وزارت حسین نقوی اور شہید انور علی آخوندزادہ کو خراجِ تحسین / دونوں عظیم شخصیات قومی سرمایہ تھیں
  • علامہ شبیر میثمی کی وفد کے ہمراہ علامہ افتخار نقوی سے ملاقات
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے وفد کی مفتی رفیع عثمانی کے فرزند سے والد کی تعزیت
  • سید ذیشان حیدر بخاری متحدہ طلباء محاذ کے مرکزی جنرل سیکرٹری منتخب ہوئے ۔
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کے اعلی سطحی وفد کی پرنسپل سیکرٹری وزیر اعظم پاکستان سے تعزیت
  • شیعہ علماء کونسل پاکستان کی نواب شاہ میں پریس کانفرنس
  • اپنے تنظیمی نظام اور سسٹم کو مضبوط سے مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ ورکر کنونشن
  • مفتی رفیع عثمانی کی وفات علمی حلقوں میں خلا مشکل سے پُر ہوگا علامہ شبیر میثمی

تازه خبریں

اگر ایک ہفتے کے اندر نگران کابینہ میں تبدیلی نہیں کی گئی تو پورے گلگت بلتستان میں احتجاج کیا جائے گا ،علامہ شیخ مرزا علی

جعفریہ پریس –  شیعہ علماء کونسل گلگت بلتستان نے نگران کابینہ گلگت بلتستان کو یکسر مسترد کرتے ہوئے فیصلے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا ہے۔  تفصیلات کے مطابق سینئر نائب صدر شیعہ علماء کونسل گلگت بلتستان علامہ شیخ مرزا علی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ایک ہفتے کے اندر نگران کابینہ میں تبدیلی نہیں کی گئی تو پورے گلگت بلتستان میں احتجاج کیا جائے گا اور مرکزی قائدین نے اگر حکم دیا تو الیکشن کا بائیکاٹ بھی کیا جائے گا۔ اُنہوں نے پوچھا کہ کن اصولوں کے تحت نگران کابینہ کا چناؤ کیا گیا؟ نگران وزیراعلٰی نے اپنی بےبسی کا اظہار کیا ہے اگر نگران وزیراعلٰی اتنے بےبس ہیں تو استفٰی دیں ایک ہی ڈویژن سے تین وزارء کا چناؤ مسترد کرتے ہیں۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ ہمارے آباو اجداد نے اس خطہ کو آزاد کرکے پاکستان کے ساتھ الحاق کیا، آج تک وفاقی حکومت نے ہمیں ہمارے حق سے محروم رکھا ہے۔ اگر ضلع سے نگران کابینہ کا چناؤ کرنا ہے تو ساتوں اضلاع سے وزراء کا انتخاب کرے۔ اس چناؤ سے گلگت بلتستان کے عوام میں احساس محرومی بڑھتا جا رہا ہے۔ ہمیں نگران کابینہ سے تحفظات ہیں ان کی نگرانی میں آئندہ الیکشن صاف و شفاف نہیں ہو سکتا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ گلگت بلتستان میں ہمسایہ ملک چین کی طرف سے مختلف پراجیکٹ پر معاہدے ہو رہے ہیں، دہشت گرد اپنے ناکام حربے کے ذریعے ان معاہدوں کو ناکام بنانے کی کوشش کر رہے ہیں لہٰذا حکومت گلگت بلتستان میں ان دہشت گردوں کے خلاف بھرپور کاروائی کرے۔