اگر مصالحت نہیں کرسکتے تو ہمیں فریق بھی نہیں بننا چاہیے سعودی یمن تنازعہ پاکستان کے مفاد میں نہیں علامہ ساجد نقوی
اگر مصالحت نہیں کرسکتے تو ہمیں فریق بھی نہیں بننا چاہیے سعودی یمن تنازعہ پاکستان کے مفاد میں نہیں علامہ ساجد نقوی

اگر مصالحت نہیں کرسکتے تو ہمیں فریق بھی نہیں بننا چاہیے سعودی یمن تنازعہ پاکستان کے مفاد میں نہیں علامہ ساجد نقوی

راولپنڈی /اسلام آباد 23ستمبر 2018ء(   جعفریہ پریس )قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی نے وزیر اعظم عمران خان کے اس بیان پر کہ حوثیوں کے مقابلے سعودی عرب کی مدد کریں گے پر کہا کہ اس سے قبل وزیر ا عظم کا بیان تھا کہ ہم کسی اور ملک کی جنگ یا پراکسی وار کا حصہ نہیں بنیں گے مصالحت کا کر دار ادا کریں گے،اگر وزیر اعظم عمران خان کے ان ونوں بیانات کو سامنے رکھیں تویہ کھلا تضاد نظر آتا ہے اس قسم کے بیانات پاکستان کے مفادمیں نہیں ہیں اور نہ ہی یہ بیان پاکستان کے عوام کی ترجمانی کر تاہے ۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ اگر آپ مصالحت کا کر دار ادا کر نا چاہتے ہیں تو ایسے بیانوں سے گریز کریں اگر مصالحت نہیں کرسکتے تو ہمیں فریق بھی نہیں بننا چاہیے ،فریقین کو خود بھگتنے دیں کہ وہ اپنے معاملات خود نمٹائیں ۔

علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ قومی معاملات پر فیصلے تمام طبقات کی مشاورت سے کئے جائیں، پاکستان کی خاطر قربانی دینے والے بنگلہ دیشی اور دربدربہاریوں سمیت تمام شہریت سے محروم طبقات کا جو حق بنتا ہے وہ دیا جائے ، بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی فراہمی ریاست کی ذمہ داری ہے۔علامہ ساجد نقوی کا مزید کہنا تھا کہ شہریت سے محروم معاشرے کے افراد کو قومی دھارے میں لانے کےلئے وزیراعظم کی جانب سے پہلے اعلان اور بعدازاں قومی اسمبلی میں وضاحت پیش کی گئی جو نامناسب تھی ، قومی معاملات پر بیانات یا فیصلے تمام طبقات کی آرا اور باہمی مشاورت سے کئے جائیں ، بنیادی انسانی حقوق اور شہری آزادیوں کی فراہمی ریاست پاکستان کی اولین ذمہ داری ہے۔فلاحی ریاست کے قیام کےلئے ضروری ہے کہ بنیادی انسانی حقوق کی پاسدار ی  کی جائے اور بنیادی حقوق کےساتھ شہری آزادیوں کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔        

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here